اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):پنک ربن پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی نیشنل اکیڈمی آف ہائیر ایجوکیشن (ناہی) کے اشتراک سے "پنک ربن-ایچ ای سی یوتھ ایوارڈز برائے بریسٹ کینسر آگاہی” کی پروقار تقریب ایچ ای سی ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی جس میں 2023 اور 2024 کے یوتھ آگاہی پروگرامز کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے تعلیمی اداروں اور طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔
تقریب میں ایم ڈی ناہی ڈاکٹر نور آمنہ ملک، سی ای او پنک ربن پاکستان عمر آفتاب، اعلیٰ تعلیمی افسران، مختلف جامعات کے نمائندگان، طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک بھر سے 47 جامعات اور کالجز کو بریسٹ کینسر سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے ان کی نمایاں خدمات پر ایوارڈز دیئے گئے۔ اس قومی مہم کے ذریعے اب تک تقریباً 25 لاکھ نوجوانوں میں بریسٹ کینسر کے متعلق آگاہی پھیلائی جا چکی ہے۔
اکتوبر کو دنیا بھر میں "بریسٹ کینسر آگاہی مہینہ” کے طور پر منایا جاتا ہے اور پنک ربن پاکستان ہر سال اسے "پنک ٹوبر” کے طور پر بھرپور انداز میں مناتا ہے۔ اس مہم کے تحت ملک بھر کی 200 سے زائد جامعات و کالجز میں آگاہی واکس، سیمینارز، آرٹ مقابلے، تربیتی ورکشاپس اور فنڈ ریزنگ مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف بریسٹ کینسر کے حوالہ سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ خواتین میں بروقت تشخیص کے رجحان کو بھی فروغ دیتی ہیں۔سال 2023 میں پہلی پوزیشن بیکن ہاؤس کالج PECHS کراچی اور ویمن یونیورسٹی ملتان نے حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن گورنمنٹ کالج فار ویمن جہلم اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے حصے میں آئی۔ تیسری پوزیشن ایس ایم بی بی میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ اور او پی ایف کالج فار گرلز اسلام آباد کو ملی۔ اس کے علاوہ رضاکارانہ خدمات، سوشل میڈیا مہم، ابھرتے ہوئے علاقوں اور نمایاں تقریبات پر مشتمل مختلف کیٹگریز میں بھی متعدد اداروں کو ایوارڈز دیئے گئے۔
سال 2024 میں پہلی پوزیشن گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن لاہور کینٹ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن کو دی گئی۔ فضائیہ میڈیکل کالج اسلام آباد اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا نے دوسری جبکہ گورنمنٹ کالج گلبرگ اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن ٹاؤن شپ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ نئے اقدامات، ابھرتے ہوئے علاقوں اور تسلسل کے ساتھ آگاہی سرگرمیوں پر بھی اداروں اور شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم پاکستان کے تعلیمی نظام اور سول سوسائٹی کے اشتراک کی ایک شاندار مثال ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند معاشرے کے قیام میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔
انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ بریسٹ کینسر آگاہی کو اب وائس چانسلرز کے ایجنڈے اور پری سروس ٹریننگ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور 180 سے زائد جامعات اس مہم کا حصہ بن چکی ہیں۔ سی ای او پنک ربن پاکستان عمر آفتاب نے کہا کہ ایچ ای سی 2012 سے پنک ربن کا شراکت دار ہے اور اس تعاون کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان لڑکیوں کو ابتدائی تشخیص، خود احتسابی، اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنک ربن ٹرسٹ ہسپتال غریب خاندانوں کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ دیگر مقررین بشمول پرنسپل ثمینہ راؤ اور ڈاکٹر ظل ہما مستحسن نے پاکستان میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز، بروقت تشخیص کی اہمیت اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔