لاہور۔27نومبر (اے پی پی):وزیر پرائمری ہیلتھ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ پولیو کے مرض کا کوئی علاج نہیں تاہم ویکسین کے دو قطرے بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچاسکتے ہیں۔صوبہ پنجاب اگرچہ تین سال سے پولیو سے پاک ہے تاہم لاعلمی اور بے بنیاد باتوں کی وجہ سے پاکستان ابھی تک پولیو وائرس سے پاک نہیں ہوسکا۔پولیو کا خاتمہ قومی ایجنڈا ہے۔
پاکستان کو پولیو فری بنانے کے لئے پانچ سال تک عمر کے تمام بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلا کر پانچ روزہ انسداد پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران پنجاب میں 2 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔
ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ پولیو سے بچاو کی ویکسین بچوں کے صحت مند مستقبل کی ضامن ہے۔اپنے بچوں کو پاو ں پر کھڑا ہونے دیں،دوسروں کا محتاج ہونے سے بچائیں۔صوبائی وزیر پرائمری ہیلتھ نے بتایا کہ بین الاضلاعی راستوں،ریلوے سٹیشن اور بس اڈوں پر خصوصی پولیو ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
رواں پولیو مہم میں 2 لاکھ 4 ہزار پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز جب آپ کی دہلیز پر آئیں تو ان سے تعاون کریں۔پولیو ورکرز قوم کے ہیرو ہیں جو قطرے پلا کر نئی نسل کو معذوری سے بچاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران بچوں کو وٹا من اے کے کیپسول بھی دئیے جائیں گے جو قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا پولیو سرویلنس سسٹم ٹھیک کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کے خدشے کے پیش نظر ان اضلاع میں انسداد پولیو مہم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی وجہ سے پولیو کے قطرے نہ پینے والا بچہ پوری دنیا کے لئے پرابلم چائلڈ بن جاتا ہے کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں صرف پاکستان اور افغانستان کو ہی پولیو کے خطرے کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ پولیو مہم جمعہ یکم دسمبر تک جاری رہے گی-
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=414609