21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومقومی خبریںپی آئی اے، سٹیل ملز اوردیگراداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر لیجانے...

پی آئی اے، سٹیل ملز اوردیگراداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر لیجانے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، سیدخورشیدشاہ

- Advertisement -

اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء اوررکن قومی اسمبلی سیدخورشیداحمدشاہ نے کہاہے کہ پی آئی اے، سٹیل ملز اوردیگراداروں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر لیجانے سے مسائل حل سکتے ہیں۔ اتوار کوقومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوئی بھی مسئلہ حل کرنے سے پہلے سب سے بنیادی بات اس مسئلے کی جڑ کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی میں اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 1948 میں پاکستان کی آبادی 3کروڑ 30 لاکھ تھی۔2010 میں پاکستان کی آبادی 11 کروڑ 50 لاکھ تھی

اب 2024 میں یہ آبادی 24 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ اس مسئلے پر ہمیں توجہ دینا پڑے گی ورنہ جتنے بھی بجٹ بنا لیں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آبادی میں اضافے کی شرح 2.6 فیصد ہے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب یہ آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی تو اس وقت ہم کیا کریں گے۔آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے قومی اسمبلی کا ایک الگ سیشن بلا کر تجاویز مرتب کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوگا ہمارے وسائل پر بوجھ بڑھے گا اور فوڈ باسکٹ تنگ سے تنگ ہوتی جائے گی۔سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ایک طرف تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے دوسری طرف ان پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے حالانکہ ٹیکس دینے والے طبقے پر ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی 15 سال میں 100 فیصد بڑھی ہے اور ہمارے قرضوں میں 61 ہزار ٹریلین سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پیدا ہونے والا ہر بچہ 2 لاکھ 74 ہزار روپے کا مقروض ہے

- Advertisement -

ٹرینیں چلائیں گلیاں اور سڑکیں بنائیں اور ٹرانسپورٹ چلائیں اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس ملک کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سیلاب کی صورتحال سے بچنے کے لیے ہمیں پیشبندی کے طور پر کوئی حکمت عملی وضح کرنی چاہیے۔پاکستان کے ہر مسئلے کو پارلیمنٹ میں لائیں یہاں پر بات کریں پھر دیکھیں کہ اس کے کیا اثرات رونما ہوتے ہیں، پارلیمنٹ پر ہمیں اعتماد کرنا ہوگا۔ملک کا ہر مسئلہ آبادی کے ساتھ منسلک ہے اگر ملک کی ابادی 40 کروڑ ہو گئی تو ہم اپنے لوگوں کو پینے کا پانی تک نہیں دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے ہمیں ڈیم بنانے چاہیئں تاکہ آئندہ پانی کی کمی کے سلسلے میں پیش بندی کے طور پر ہم مستقبل کو محفوظ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے بلکہ لوگوں کو مراعات دینی چاہیے آبادی میں کمی سے وسائل کی جو بچت ہوگی وہ مراعات اس میں سے دی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں آرٹس اور سائنس گروپس ہیں جن میں سے آرٹس گروپ کو ختم ہونا چاہیے صرف سائنس گروپ ہونا چاہیے تاکہ بابو اور چوکیدار پیدا ہونے کی بجائے ملک کو آگے لے کر جانے والے ہونہار پاکستانی پیدا ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے جتنا جلد ہو سکے کیے جائیں اور اس سلسلے میں اگر تجاویز مرتب کرنے کے لیے کوئی کمیٹی بھی بنانی چاہیں تو ہم اس سلسلے میں اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=478242

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں