اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ 22 مئی کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بد قسمت طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے حوالے سے عبوری رپورٹ وعدے کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے، طیارہ پرواز کیلئے 100 فیصد فٹ تھا اورلینڈنگ کے وقت 7220 فٹ …
پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے حوالے سے عبوری رپورٹ وعدے کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ 22 مئی کو جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے بد قسمت طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے حوالے سے عبوری رپورٹ وعدے کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے، طیارہ پرواز کیلئے 100 فیصد فٹ تھا اورلینڈنگ کے وقت 7220 فٹ کی بلندی پر تھا، کنٹرولر کی طرف سے 3 بار اونچائی کی جانب توجہ دلانے کے باوجود ہواباز نے عمل نہیں کیا، یہ ریکارڈ پر ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کھلے اور 10 ایئروناٹیکل مائل پر دوبارہ بند ہوئے، حتمی رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بدھ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حادثہ کے فورا بعد تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں ہوا بازوں کی نمائندگی کے لئے ہم نے خود ہوابازوں کی تنظیم کو خط لکھا اور انکوائری بورڈ کو وسیع کرتے ہوئے ایئر بلیو کے 2 سینئر ہوابازوںکو بورڈ کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عبوری رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر کے ایک مثال قائم کر دی ہے، ماضی میں کسی فضائی حادثہ کی نہ کوئی رپورٹ پیش ہوئی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، رواں سال کے اندر اندر ہی 2010سے لیکر 2020 تک پیش آنے والے فضائی حادثات اور 22 مئی کے حادثہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی جائے گی جس میں ذمہ داروں کا تعین بھی ہو گا اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ طیارے کا ہواباز اور معاون ہوا باز دونوں طبی طور پر جہاز اڑانے کیلئے فٹ تھے، پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹرولر کی نشاندہی کے باوجود ہواباز نے کہا کہ میں مینیج کر لوں گا یہ باتیں تحقیقاتی ٹیم کو ڈیٹا انٹری ریکارڈر میں ریکارڈ ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوئی ہیں۔ غلام سرور خان نے کہا کہ 10 ناٹیکل مائل پر جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے اور 5 ناٹیکل مائل پر لینڈنگ گیئر دوبارہ بند کرد یئے گئے، جہاز کے رن وے پر رگڑیں کھاتے رہنے سے انجن بھی خراب ہوا جس کا ایئرٹریفک کنٹرول کی طرف سے ہواباز کو بتایا جانا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، انجن کافی حد تک متاثر ہونے کے باوجود ہوا باز نے جہاز کو دوبارہ اڑایا ، کوئی ہدایات نہیں لیں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظرانداز کر دیا، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا جو حادثہ کا سبب بنا ۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبوری رپورٹ مقررہ وقت پر مرتب کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جو اب تک کی تحقیقات سے سامنے آئے ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں ہے اور انکوائری کا عمل ابھی جاری ہے جسے ہر لحاظ سے شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کی انجن مینو فیکچرر اور ایئر بس مینو فیکچرر کے نمائندے بھی تحقیقات کے لئے 26 مئی کو پاکستان آئے ان کی اپنی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ جس طرح عبوری رپورٹ پیش کی ہے مکمل رپورٹ بھی ایوان میں پیش کریں گے۔ غلام سرورخان نے کہا کہ طیارہ گرنے سے 29 گھروں کونقصان پہنچا جس کا سروے کرایا لیا گیا ہے اور انشورنس کمپنی کی طرف سے انہیں معاوضے دیئے جائیں گے۔ جاں بحق ہونے والے 90 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے اور سوائے ایک میت کے جس کی شناخت نہیں ہو سکی ہے باقی تمام میتین ورثاءکے حوالے کی جا چکی ہیں، بعض مسافروں کے لواحقین نے معاوضہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بھو جا ائیر لائن اور ایئر بلیو طیاروں کے حادثات میں بھی ہوا بازوں نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا اور جو غلطی اس طیارہ حادثے میں پائلٹ سے ہوئی وہی غلطی گلگت طیارہ واقعے میں بھی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹس کے جعلی لائسنس پر کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، بعض ہوا بازوں کے امتحانات کے دن بھی مشکوک ہیں اور بعض کی ڈگریاں اور اسناد بھی جعلی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ایک بھی بھرتی پی آئی میں نہیں ہوئی ہے تاہم یہ بھرتیاں سابقہ ادوار کی ہیں اس کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں کل 860 ہوابازوں میں سے 262 کے امتحانات اور لائسنس مشکوک ہیں باقی کا بھی فرانزک کرایا جا رہا ہے اور جو بھی ذمہ دار ہیں اندرونی ہوں یا بیرونی ان کے گریبان پر بھی ہمارا جلد ہاتھ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پائلٹس کو بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کروایا جاتا رہاہے، جودکھ کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پی آئی اے میں اصلاحات کے لئے خود بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں تاکہ پی آئی اے کی عظمت رفتہ بحال کرکے اسے 1970 اور 1980 کی دہائی والا ادارہ بنایا جا سکے۔








