اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):پی ٹی اے کو ایک سال کے دوران ڈی آئی آر بی ایس سے متعلق ایک لاکھ 99 ہزار 722شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 99.9فیصد کا کامیابی سے ازالہ کیا گیا، روزانہ اوسطاً 150سے 200شہری پی ٹی اے کے مرکزی دفتر میں رجوع کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے لئے حکومت نے رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی مراعات بھی متعارف کرائی ہیں جن …
پی ٹی اے کو ایک سال کے دوران ڈی آئی آر بی ایس سے متعلق ایک لاکھ 99 ہزار 722شکایات موصول ، 99.9فیصد کا ازالہ کیا گیا
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):پی ٹی اے کو ایک سال کے دوران ڈی آئی آر بی ایس سے متعلق ایک لاکھ 99 ہزار 722شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 99.9فیصد کا کامیابی سے ازالہ کیا گیا، روزانہ اوسطاً 150سے 200شہری پی ٹی اے کے مرکزی دفتر میں رجوع کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے لئے حکومت نے رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی مراعات بھی متعارف کرائی ہیں جن میں 60دن کے اندر رجسٹریشن پر 10فیصد ٹیکس رعایت اور ہر وزٹ پر فون کی 120دن کے لئے عارضی طور پر مفت رجسٹریشن شامل ہے۔ ’’اے پی پی ‘‘ کو دستیاب معلومات کے مطابق یہ غلط فہمی عام ہے کہ موبائل فونز پرعائد ٹیکسزاور ڈیوٹیز کا ذمہ دار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ درحقیقت موبائل فونز پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ایف بی آر وصول کرتی ہے جبکہ پی ٹی اے کا اس مالیاتی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ ایف بی آر ہی وہ ادارہ ہے جو موبائل ڈیوائسز پر ٹیکس عائد کرنے، اس کی وضاحت دینے اور اس کی وصولی کا مکمل اختیار رکھتا ہے، اس مقصد کے لئے ایف بی آر نے کئی قانونی نوٹیفکیشنز جاری کئے ہیں جن میں ایس آر او50(I)/2019اور 51(I)/2019اور کسٹمز جنرل آرڈر 01آف 2024شامل ہیں جو ان تمام ٹیکسز کی بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔
دستیاب معلومات کے مطابق ایف بی آر مختلف ماڈلز اور کیٹیگریز کے لئے وقتاً فوقتاً ٹیکس چارٹس جاری کرتا رہتا ہے جو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوتے ہیں۔ موبائل رجسٹریشن کے دوران جو بھی ادائیگی کی جاتی ہے وہ براہِ راست ایف بی آر کے اکائونٹ میں جمع ہوتی ہے۔پی ٹی اے پر ٹیکسز کا الزام دینا نہ صرف غلط فہمی کو جنم دیتا ہے بلکہ عوامی بحث کو غلط سمت میں موڑ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی اے نہ تو کوئی ٹیکس عائد کرتا ہے اور نہ ہی کوئی مالی وصولی کرتا ہے۔ پی ٹی اے کا کردار صرف ریگولیٹری ہے، یعنی ٹیلی کام سروسز کی نگرانی، معیار کی جانچ اور صارفین کی شکایات کا ازالہ و رہنمائی تک محدود ہے، نہ کہ ٹیکس وصولی۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن عمومی طور پر سوشل میڈیا، مارکیٹوں اور روزمرہ گفتگو میں "پی ٹی اے ٹیکس” جیسی غلط اصطلاح عام طور پر رائج ہو چکی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔دستیا ب معلومات کے مطابق موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن اور ٹیکس ادائیگی کے عمل کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2019میں لانچ کیے گئے ڈی آئی آر بی ایس نظام کو دیکھنا ہوگا۔ یہ نظام ”ٹیلی کام پالیسی 2015” کے تحت متعارف کروایا گیا تاکہ پاکستان میں اسمگل شدہ، نان کمپلائینٹ یا جعلی موبائل فونز کو بلاک کیا جا سکے۔ یہ سسٹم GSMA معیارات اور پی ٹی اے کے ٹائپ اپروول اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ ڈی آئی آر بی ایس پی ٹی اے، ایف بی آر، جی ایس ایم اے، موبائل نیٹ ورک آپریٹرز اور صارفین کو ایک خودکار ڈیجیٹل سسٹم کے تحت باہم مربوط کرتا ہے۔ جو رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگی کے تمام مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔
اس نظام کے ذریعے صارفین موبائل فون کی رجسٹریشن (*8484#) یا ڈی آئی آر بی ایس ویب پورٹل کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ جب فون کا IMEIنمبر سسٹم میں درج کیا جاتا ہے تو ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکس کے مطابق ایک پیمنٹ سلپ آئی ڈی(پی ایس آئی ڈی )جاری ہوتی ہے۔ صارف یہ رقم براہِ راست بینک کے ذریعے ایف بی آر کو ادا کرتا ہے، اور ادائیگی کی تصدیق کے بعد فون کو وائٹ لسٹ کر کے پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر فعال کر دیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن کی حیثیت ایس ایم ایس، ویب سائٹ یا ڈی آئی آر بی ایس ایپ کے ذریعے معلوم کی جا سکتی ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے لیے حکومت نے رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی مراعات بھی متعارف کروائی ہیں، جن میں 60دن کے اندر رجسٹریشن پر 10فیصد ٹیکس رعایت اور ہر وزٹ پر فون کی 120دن کے لیے عارضی طور پر مفت رجسٹریشن شامل ہے۔ ان اقدامات سے قانونی درآمدات کو فروغ اور اوورسیز پاکستانیوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ ٹیکس سے متعلق تمام سوالات کے لئے صارفین ایف بی آر ہیلپ لائن 051-111-772-772 یا ای میل[email protected]پر رابطہ کر سکتے ہیں اس پورے عمل میں پی ٹی اے کا کردار تکنیکی معاونت اور رہنمائی تک محدود ہے، پی ٹی اے روزانہ سینکڑوں شہریوں کی رہنمائی اور مسائل کے حل میں مصروفِ عمل رہتا ہے۔ صرف 2024 میں پی ٹی اے کو ڈی آئی آر بی ایس سے متعلق 1,99,722شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 99.9فیصد کا کامیابی سے ازالہ کیا گیا۔ روزانہ اوسطاً 150سے 200شہری پی ٹی اے کے مرکزی دفتر میں رجوع کرتے ہیں۔ رجسٹریشن یا تکنیکی مسائل کے لئے پی ٹی اے کی ہیلپ لائن 0800-55055 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی اے اپنی خدمات تمام صارفین کو بغیر کسی فیس کے فراہم کررہا ہے۔\395









