اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):چائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں پیر کو بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان ’’امن کی جانب سفر: فسطائیت کے خلاف فتح سے بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل تک‘‘ تھا۔سیمینار میں حکومتی نمائندوں، سفارت کاروں، سابق اعلیٰ افسران، ماہرین بین الاقوامی تعلقات، تھنک ٹینک کے سربراہان اور میڈیا نمائندگان …
چائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):چائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں پیر کو بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان ’’امن کی جانب سفر: فسطائیت کے خلاف فتح سے بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل تک‘‘ تھا۔سیمینار میں حکومتی نمائندوں، سفارت کاروں، سابق اعلیٰ افسران، ماہرین بین الاقوامی تعلقات، تھنک ٹینک کے سربراہان اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔
وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ چین نے فسطائیت کے خلاف تاریخ ساز مزاحمت کی اور آج بھی عالمی ناانصافی و استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی رومینہ خورشید عالم نے ’’ہم نصیب معاشرہ‘‘ کے تصور کو دنیا کے لیے امید کی کرن قرار دیا اور کہا کہ چین نے ہمیشہ امن، انسان دوستی اور مساوات کی حمایت کی۔سابق وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے چین کی جنگی قربانیوں اور موجودہ عالمی امن میں کردار کو سراہا جبکہ سابق سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم نے کہا کہ چین کی پالیسیوں نے عالمی نظام کو توازن اور شفافیت کی طرف گامزن کیا ہے۔
پاکستان کے سابق سفیر معین الحق نے پاک-چین دوستی کو آہنی بھائی چارے سے تعبیر کیا اور چین کے بروقت تعاون پر روشنی ڈالی۔سی ای او ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن شکیل احمد رامےنے چین کی عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں اور مساوی ترقی کو قابل تقلید قرار دیا۔سی ای او پاکستان-چائنا انسٹیٹیوٹ مصطفیٰ حیدر سید نے چین کے انسان دوست وژن اور عالمی استحکام میں قائدانہ کردار کو اجاگر کیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے چین کے پرامن اور شراکت داری پر مبنی بیانیے پر اعتماد کا اظہار کیا اور کمنٹس وال پر اپنے جذبات درج کیے۔یہ سیمینار اس بات کا اعادہ تھا کہ انتہا پسندی، یکطرفہ رویوں اور عالمی جبر کا مقابلہ صرف باہمی احترام، تعاون اور مشترکہ وژن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چین کا وژن عالمی امن اور پائیدار ترقی کا روشن راستہ ہے۔









