چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس، سی پیک کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی غور

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان کی صدارت میں پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ریلوے کے اور حادثات سے متعلق سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت پر بھی تفصیلی غور کیا …

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان کی صدارت میں پیر کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ریلوے کے اور حادثات سے متعلق سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت ریلوے انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

سینیٹر شہادت اعوان نے زور دیا کہ کمیٹی کو معلومات کی فراہمی میں مسائل کا سبب بننے والے ذمہ داروں کا تعین اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاسوں میں کئے گئے وعدوں اور ریکارڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود اب تک درست اعدادوشمار مہیا نہیں کیے گئے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے وزارت کو ہدایت کی کہ متعلقہ افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ اجلاس سے قبل تمام ایف آئی آرز، تحقیقات، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد، سزائوں اور ریکوری کے اقدامات کی مکمل تفصیلات جمع کرائی جائیں۔

وزارت ریلوے کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 3,230 ایف آئی آرز درج کی گئیں جن میں چوری، بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 212.883 ملین روپے کے مالی نقصان کی اطلاع دی گئی جس میں سے 109.487 ملین روپے کی ریکوری ہو چکی ہے۔ سیکرٹری نے وضاحت کی کہ قبل ازیں فراہم کردہ اعدادوشمار میں تضاد کیلنڈر اور مالی سال کے فرق کے باعث ہوا تاہم اب ڈیٹا کو ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 1,555 افراد کو سزا سنائی گئی، 309 بری ہوئے اور 1080 مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے متعدد پرانی اور غیر حل شدہ ایف آئی آرز پر پیشرفت نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور ان مقدمات کی تفصیلات اور پولیس کے تعاون کی مکمل رپورٹ طلب کی۔ کمیٹی نے کراچی تا روہڑی ریلوے لائن پر بھی غور کیا جسے ایم ایل-1 منصوبے کی رکاوٹ قرار دیا گیا۔ سیکرٹری ریلوے نے آگاہ کیا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے سی پیک کے علاوہ دیگر مالیاتی ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

سینیٹر جام سیف اللہ نے کراچی میں اربوں روپے مالیت کی ریلوے اراضی پر قبضے کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان قیمتی زمینوں کو شفاف طریقے سے واگزار کروا کر سرمایہ کاری کے لیے استعمال میں لایا جائے تاکہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کمرشل اراضی کے حوالے سے شکایات پر بھی تشویش ظاہر کی اور وزارت سے زمین کے انتظام و انصرام اور بازیابی کے لیے واضح پالیسی طلب کی۔اجلاس میں بلوچستان جیسے کم ترقی یافتہ علاقوں میں ٹرین سروسز کی کمی اور پرانے انفراسٹرکچر کی نشاندہی کی گئی۔

چیئرمین کمیٹی نے وزارت پر زور دیا کہ ریلوے کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں یکساں خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔کمیٹی نے اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس اگلے ماہ کے اختتام سے قبل بلایا جائے گا جس میں تمام ہدایات پر عملدرآمد، زیر التواء ریکارڈ، تادیبی کارروائیوں کی صورتحال اور سٹریٹجک منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹرز اسد قاسم، دوست علی جیسر، سیف اللہ سرور خان نیازی اور شہادت اعوان کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔