اسلام آباد ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی) عالمی اقتصادی فورم نے عالمی مسابقتی انڈیکس کے تحت پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے تناظر میں2019ء میں قومی احتساب بیورو کی عوام کو بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی کوششوں کو سراہا ہے جس کے باعث عوام نہ صرف پہلے سے زیادہ بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی رکھتے ہیں بلکہ نیب کو موصول ہونے …
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی) عالمی اقتصادی فورم نے عالمی مسابقتی انڈیکس کے تحت پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے تناظر میں2019ء میں قومی احتساب بیورو کی عوام کو بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی کوششوں کو سراہا ہے جس کے باعث عوام نہ صرف پہلے سے زیادہ بد عنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی رکھتے ہیں بلکہ نیب کو موصول ہونے والی بدعنوانی سے متعلق شکایات 2018کے مقابلہ میں2019 میں دوگنا ہونا نیب جیسے معتبر ادارے پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی اقتصادی فورم کی کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے نیب ہیڈکوارٹر میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو عالمی اقتصادی فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران نیب کی شاندار کارکردگی اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر اعتماد اور سراہنے پر عالمی اقتصادی فورم، عالمی اقتصادی فورم کی فیوچر آف اکنامک پراگریس سسٹم انیشی ایٹو کے کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ مشعل پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بلا امتیاز احتساب سب کے لئے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ نیب نے بد عنوانی کے برے اثرات سے آگاہی اور بد عنوان عناصر کو قانون کو کٹہرے میں لانے کے لئے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ پر مبنی سہ جہتی پالیسی وضع کی ہے۔ نیب کی آگاہی اور تدارک کی ملک گیر مہم کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس سے پہلے مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے چیئرمین نیب کو گزشتہ 12 ماہ کے دوران 4 مسابقتوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ادارہ جاتی سطحوں پر اچھی پیشرفت کی ہے اور اس کی درجہ بندی میں دو درجے بہتری سے107 ویں نمبر پر آگیا ہے جو کہ گزشتہ سال 109 نمبر تھی۔ ادارہ جاتی سطحوں میں شفافیت، سکیورٹی، پراپرٹی رائٹس، سماجی سرمایہ، اخلاقیات میں توازن، سرکاری و کاروباری شعبہ کے نظم و نسق میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔








