23 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںچیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی...

چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس

- Advertisement -

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت میں سیدہ نوشین افتخار کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کی چیئرپرسن سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ ہمارے بچوں کو اپنی ثقافت اور ورثے سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے، نئی نسل کا اپنی ثقافتی روایات اور قومی تشخص سے وابستہ رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کو اپنے قومی رہنماؤں سے روشناس کرایا جائے اور صوبوں کے درمیان ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کو مزید فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ثقافت کے ذریعے ہم نفرت کو ختم اور اتحاد کو فروغ دے سکتے ہیں، اگر ایک صوبے کے ثقافتی پروگرام دوسرے صوبے میں منعقد کئے جائیں تو عوام ایک دوسرے کی روایات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔چیئرپرسن کمیٹی نے بچوں کی اردو زبان کی تعلیم پر مزید توجہ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ نئی نسل کو قومی زبان سے دور نہیں ہونا چاہئے۔

- Advertisement -

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کمیٹی ارکان کو خوش آمدید کہا اور وزارت کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر ثقافت نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ وزارت خود مختار حیثیت میں کام کر رہی ہے، ماضی میں یہ دیگر وزارتوں کے تحت رہی جس کے باعث اس پر خاطر خواہ توجہ نہ دی جا سکی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت سات اداروں کو بند کرنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن اہلِ قلم ،سینیٹر عرفان صدیقی اور وزیراعظم کی حمایت سے یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں وزیراعظم کا خاص طور پر شکر گزار ہوں، اب ہماری وزارت نئی سمت اختیار کر کے مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔وفاقی وزیر نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ثقافتی پروگرام تمام صوبوں میں منعقد کرے۔ انہوں نے بتایا کہ پی این سی اے نے 22 سال بعد بلوچستان میں ایک بلوچی ثقافتی پروگرام کامیابی سے منعقد کیا، دیگر اداروں کو بھی اس ماڈل پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔

اورنگزیب کھچی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اٹلی کے سفارتخانے کی جانب سے بازیاب کرائے گئے 122 نوادرات اب بھی روم میں موجود ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کے لئے کمیٹی کی معاونت درکار ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ قومی زبان پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی ) آئینِ پاکستان کا اردو ترجمہ کرے اور کہا کہ سی ایس ایس امتحانات میں اردو میڈیم کا اختیار طلبہ کو فراہم کیا جانا چاہئے۔قومی کتب خانہ پاکستان (این ایل پی ) کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں طلبہ، خصوصاً سی ایس ایس کے امیدوار، لائبریری سے استفادہ کرتے ہیں۔

قومی زبان پروموشن ڈیپارٹمنٹ (این ایل پی ڈی ) کے حکام نے بتایا کہ ای-بک منصوبے پر کام جاری ہے اور گزشتہ ہفتے ہی 50 کتب ڈیجیٹلائز کی گئی ہیں۔ چیئرپرسن نے منصوبے کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔مہتاب اکبر راشدی نے زور دیا کہ بچوں میں اردو زبان پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں زیادہ تر انگریزی بولنے کا رجحان ہے جس سے بچے قومی زبان سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اس رجحان کو ختم کرنا ہوگا۔

آفیشل نے کہا کہ ہم تین سال سے ایک ہی کتاب پر کام کر رہے تھے لیکن اب رفتار تیز ہو گئی ہے اور ای-بک منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ چیئرپرسن اور وفاقی وزیر کی ہدایات کو خط و کتابت اور روح کے مطابق نافذ کیا جائے گا۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص نے ادارے کے امور پر بریفنگ دی۔نجیبہ عارف نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (پی اے ایل ) کے کردار اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔پی این سی سے کے ڈی جی نے ادارے کی کارگردگی اور نوجوانوں کو آرٹس سے جوڑنے کی کاوشوں کے بارے آگاہ کیا۔ ایوانِ اقبال لاہور اور مزارِ قائد کراچی کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں