چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ آف پاکستان کا 156 واں فل کورٹ اجلاس

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کا 156 واں فل کورٹ اجلاس پیر کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر …

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کا 156 واں فل کورٹ اجلاس پیر کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج صاحبان جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شاہد بلال، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کی۔ ابتداء میں چیف جسٹس آف پاکستان نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور سپریم کورٹ رولز 1980 کے جائزے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے کمیٹی کے ہمہ گیر کام کی تعریف کی جسے معزز ججز اور قانونی برادری کی آراء کے ساتھ مرتب کیا گیا اور جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ رولز 2025 کا جامع مسودہ تیار ہوا۔کمیٹی کے چیئرمین جسٹس شاہد وحید نے فل کورٹ کو رولز کے بارے میں بریفنگ دی۔تفصیلی غور و خوض کے بعد فل کورٹ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 ایک ’’زندہ دستاویز‘‘ ہیں جن کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور ضروری ترامیم کی جاتی رہیں گی۔فل کورٹ نے مختلف پہلوئوں پر غور کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ فی الوقت عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافہ سے متعلق ترامیم پر عمل درآمد موخر کیا جائے۔ اس سلسلے میں معزز ججز، بار کے نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کمیٹی میں زیر غور لائی جائیں گی تاکہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فل کورٹ کے سامنے فیصلہ کے لیے پیش کی جا سکیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو اس بات کا مظہر ہے کہ عدلیہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور سپریم کورٹ رولز کو عصری تقاضوں کے مطابق متحرک اور موثر رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔