چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت بینکنگ تنازعات کے حل اور معاشی کارکردگی سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

چیف جسٹس آف پاکستان نے بطور چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان سپریم کورٹ میں بینکنگ تنازعات کے حل اور معاشی کارکردگی سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی

اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان نے بطور چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان سپریم کورٹ میں بینکنگ تنازعات کے حل اور معاشی کارکردگی سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کا مقصد بینکنگ سیکٹر میں قانون سازی اور طریقہ کار کے موجود خلاء کی نشاندہی اور ان کے موثر حل کے لیے سفارشات تیار کرنا تھا۔ اعلامیہ کے مطابق مشاورت کا بنیادی ہدف طویل قانونی چارہ جوئی کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور تنازعات کے حل میں تاخیر کا خاتمہ ہے۔اجلاس میں ایف بی آر کے ٹیکس لٹیگیشن میں متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کمیٹیوں کی کامیابی کو ایک ماڈل کے طور پر بینکنگ سیکٹر میں بھی اپنانے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جو تیز رفتار، کم لاگت اور قابل پیش گوئی قانونی حل فراہم کر سکے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر بینکنگ لٹیگیشن کو مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ٹارگٹڈ قانونی اصلاحات اور مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں بینکنگ ریکوری اور قانون کے نفاذ کے نظام میں موجود قانونی و طریقہ کار کی رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ریگولیٹرز اور مالیاتی اداروں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججز، وفاقی وزیر خزانہ، اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین ایس ای سی پی، بینکنگ محتسب اور سٹیٹ بینک کے نمائندے بھی موجود تھے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، ایف پی سی سی آئی اور او آئی سی سی آئی کی قیادت نے بھی مشاورتی عمل میں حصہ لیا۔ اعلامیہ کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن تمام تجاویز کو ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک کی شکل دے کر تکنیکی جانچ کے لیے ماہرین کی کمیٹی کو بھجوائے گا۔ حتمی سفارشات منظوری کے بعد پالیسی سازی کے لیے وزارت قانون و انصاف کو ارسال کی جائیں گی۔اعلامیہ کے مطابق یہ مشاورتی عمل پاکستان میں بینکنگ تنازعات کے حل کو موثر بنانے اور مجموعی معاشی نظم و نسق کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

مزید خبریں