چین کو بھی سندھ طاس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے،سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر وکٹر گائو کی بین الاقوامی سیمینار میں تجویز
چین کو بھی سندھ طاس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے،سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر وکٹر گائو کی بین الاقوامی سیمینار میں تجویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن (سی سی جی) کے صدر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ چین کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے،انہوں نےسرحد پار دریائوں کے انتظام و انصرام کے لیے اقوام متحدہ اورعالمی برادری کی معاونت سے ایک بین الاقوامی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔منگل کواسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سےخطاب کرتے ہوئے وکٹر گائو نےیاد دلایا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی بات کی تھی تو انہوں نے بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز میں اس موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ امن کے زمانے میں کروڑوں لوگوں کو پانی سے محروم کرنے کی دھمکی دینا ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ جبکہ جنگ کے دوران ایسا اقدام ’’جنگی جرم‘‘ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کو اس راستے پر نہ چلنے کا مشورہ دیا تھا۔
وکٹر گائو نے کہا کہ اگرچہ پاکستان دریائے سندھ کے بہائو کے اعتبار سے زیریں (ڈائون سٹریم) ملک ہے تاہم بھارت بھی آخری بالائی (اپ سٹریم) ریاست نہیں کیونکہ دریائے سندھ کا منبع ہمالیائی خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کو دھمکی دے رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ صرف عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات دہرا رہے ہیں کہ ’’دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ قول انٹرویو میں تین مرتبہ دہرایا تھا اور آج بھی بھارت کے لیے یہی پیغام دہرا رہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ چین اور پاکستان کے باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا تقاضا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام کیا جائے۔
انہوں نے سیمینار میں ہونے والی گفتگو کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیش کیے گئے بیشتر نکات سے متفق ہیں تاہم انہوں نے مزید تجاویز بھی پیش کیں۔انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کوروکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور اس معاملے پر چین اور پاکستان کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دیا جائے۔چینی ماہر نے تجویز پیش کی کہ چین کو بھی سندھ طاس معاہدے میں شامل کر کے اسے سہ فریقی معاہدہ بنایا جائے اورمعاہدے کی شقوں کے مطابق دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہائو کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے جائزے کے مطابق کم از کم آٹھ ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریائوں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں اس لیے ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت حاصل ہو۔علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وکٹر گائو نے کہا کہ آبنائے ہرمز حالیہ عرصے میں کشیدگی کا مرکز رہی تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد اب یہ بحری گزرگاہ دوبارہ کھل چکی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن و استحکام کے لیے اسی سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔








