چین کی یورپی یونین کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں کے استعمال کی مخالفت،بین الاقوامی قانون کے احترام اور مذاکرات کے فروغ پر زور

بیجنگ ۔17دسمبر (اے پی پی):چین نے یورپی یونین کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں کے یوکرین کے مفاد میں استعمال کی سخت مخالفت کی ہے۔شنہوا کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوؤ جیاکن نےکہا کہ چین یکطرفہ پابندیوں کی مسلسل مخالفت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوں اور جن کی منظوری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نہ دی ہو۔ اس سوال کہ آیا روسی …

بیجنگ ۔17دسمبر (اے پی پی):چین نے یورپی یونین کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں کے یوکرین کے مفاد میں استعمال کی سخت مخالفت کی ہے۔شنہوا کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوؤ جیاکن نےکہا کہ چین یکطرفہ پابندیوں کی مسلسل مخالفت کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوں اور جن کی منظوری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نہ دی ہو۔ اس سوال کہ آیا روسی اثاثوں کے ممکنہ استعمال سے یورپی یونین کے سرمایہ کاری ماحول پر چین کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ چین تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ’’مثبت ماحول اور سازگار حالات‘‘ کی حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین بحران کا حل سیاسی ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ 12 دسمبر کو یورپی یونین کی کونسل نے روس کے خودمختار اثاثوں کو مستقل طور پر منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یورپی کمیشن کو امید ہے کہ 18 اور 19 دسمبر کو ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک روس کے 210 ارب یورو مالیت کے اثاثے ضبط کرنے کا فیصلہ کریں گے، جن میں سے 185 ارب یورو بیلجیئم کے مالیاتی ادارے یوروکلیئر میں منجمد ہیں۔ یورپی یونین نے روسی اثاثوں کی ضبطی کی مخالفت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے یورپی یونین کے مالیاتی اداروں پر عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔