کاشتکارربیع و خریف فصلوں کی کاشت سے قبل کھادوں کے استعمال کےلئے زمین کاتجزیہ کراوئیں ، محکمہ زراعت

محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ربیع اور خریف فصلوں کی کاشت سے قبل اپنی زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں تاکہ کھادوں کے متوازن اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے

سیالکوٹ۔8جون (اے پی پی):محکمہ زراعت سیالکوٹ نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ربیع اور خریف فصلوں کی کاشت سے قبل اپنی زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں تاکہ کھادوں کے متوازن اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز محکمہ زراعت (پلانٹ پروٹیکشن )سیالکوٹ ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا ہے کہ مٹی کے تجزیے کے بغیر کھادوں کا استعمال نہ صرف اخراجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ فصلوں کی پیداوار اور معیار پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکار اگر ہر سال زمین کا تجزیہ کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے تو کم از کم ہر تیسرے سال ضرور تجزیہ کروائیں۔ مٹی کی جانچ کے بعد ماہرین زمین کی ضروریات کے مطابق کھادوں کی اقسام اور مقدار کے بارے میں درست سفارشات فراہم کرتے ہیں، جس سے فصلوں کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ غیر موزوں کھادوں کا انتخاب، ان کا غیر سائنسی استعمال اور آبپاشی کے پانی کی کمی یا زیادتی کھادوں اور بیج کی افادیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ زرعی ماہرین کی مشاورت سے متناسب کھادوں کا استعمال کریں تاکہ زمین کی زرخیزی برقرار رہے اور بھرپور پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔محکمہ زراعت نے کاشتکاروں سے اپیل کی ہے کہ جدید زرعی طریقوں کو اپناتے ہوئے مٹی کے تجزیے کو اپنی کاشتکاری کا مستقل حصہ بنائیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔