ملتان میں فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی کیمپس 2026 کا باضابطہ افتتاح

صوبائی وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے ملتان کا دورہ کرتے ہوئے فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی کیمپس 2026 کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب جناح آڈیٹوریم، بہاؤالدین زکریا یونیو رسٹی ملتان میں منعقد ہوئی

ملتان۔ 08 جون (اے پی پی):صوبائی وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے ملتان کا دورہ کرتے ہوئے فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی کیمپس 2026 کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب جناح آڈیٹوریم، بہاؤالدین زکریا یونیو رسٹی ملتان میں منعقد ہوئی جس میں صوبائی سیکرٹری سکول ایجوکیشن مدثرریاض ملک، وائس چانسلر ڈاکٹرزبیراقبال،اراکین پنجاب اسمبلی علی حیدرگیلانی، نازک کریم، لعل جوئیہ،اقبال سراج، محکمہ سکول ایجوکیشن کے افسران، ضلعی انتظامیہ، اساتذہ اورطلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے دوران آٹھویں جماعت کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنےوالے طلبہ میں لیپ ٹاپس اور اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ بہترین تعلیمی نتائج حاصل کرنے والےاساتذہ کو بھی تعریفی اسناد اورایوارڈزسے نوازا گیا۔ اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جسے شرکاء نے سراہا۔صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی خصوصی ہدایات پر تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تعلیمی نظام میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 6 ہزار فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد کمزور طلبہ کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف ایل این کیمپس میں بچوں کی بنیادی خواندگی، حسابی مہارتوں اور ذہنی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کیمپس کے ذریعے ایسے طلبہ کو اضافی تعلیمی معاونت فراہم کی جائے گی جو مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیمی طور پر پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران ہر سال ایف ایل این کیمپس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ طلبہ کی بنیادی تعلیمی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ پہلی مرتبہ نمایاں کارکر دگی دکھانے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی لیپ ٹاپ فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ تدریسی عمل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب جدید تدریسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کے 35 ہزار سکولوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے تحت 25 ہزار نئے کلاس رومز اور 42 ہزار واش رومز تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے بھر میں 9 ہزار سے زائد جدید آئی ٹی لیبارٹریز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "لائبریری آن ویلز” منصوبہ جلد شروع کیا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری کتب تک رسائی حاصل ہو سکے۔ اس کےعلاوہ طالبات اور خواتین اساتذہ کے لیے سکوٹی پروگرام اور طلبہ کوفنی و تکنیکی تعلیم سے آرا ستہ کرنے کے لیے نئے پروگرام بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

صوبائی سیکرٹری سکول ایجوکیشن مدثر ریاض ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعلیٰ سکول انفراسٹرکچر پیکج کے تحت تعلیمی سہو لیات میں نمایاں بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے 60 ہزار سے زائد سکولوں میں 14 ملین سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ 10 ہزار سکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت پبلک پرائیو یٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 128 تعلیمی اداروں کو نواز شریف سکولز آف ایمننس میں تبدیل کیا جا چکا ہے جبکہ یونیسف اور دیگر عالمی ادارے بھی حکو مت پنجاب کے ساتھ مل کر تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔تقریب کے اختتام پر سکول بیسڈ اسیسمنٹ سسٹم پرماہرین کی خصوصی پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی جس میں تعلیمی اصلاحات، تدریسی معیار میں بہتری اور طلبہ کی استعداد بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔