فیصل آباد۔ 28 نومبر (اے پی پی):فصل کی تاخیر سے کاشت، کھادوں کے بے وقت و غیر متناسب استعمال، جڑی بوٹیوں کی کثرت، معیاری بیجوں کے عدم استعمال، آبپاشی کے اوقات سے لاعلمی کے باعث گندم کی پیداواراصل ہدف سے کم حاصل ہورہی ہے اور پاکستان میں گندم کی اوسط پیداوار 29من فی ایکڑ تک محدودہو کر رہ گئی ہے جس کے برعکس بیرون ممالک کے کاشتکار اور ترقی پسند …
کاشتکاروں کو کم پانی سے زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے جدید زرعی رجحانات سے آگاہی فراہم کرنا ہو گی،ماہرین
فیصل آباد۔ 28 نومبر (اے پی پی):فصل کی تاخیر سے کاشت، کھادوں کے بے وقت و غیر متناسب استعمال، جڑی بوٹیوں کی کثرت، معیاری بیجوں کے عدم استعمال، آبپاشی کے اوقات سے لاعلمی کے باعث گندم کی پیداواراصل ہدف سے کم حاصل ہورہی ہے اور پاکستان میں گندم کی اوسط پیداوار 29من فی ایکڑ تک محدودہو کر رہ گئی ہے جس کے برعکس بیرون ممالک کے کاشتکار اور ترقی پسند زمیندار جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے 60من فی ایکڑتک پیداوار حاصل کر رہے ہیں لہٰذا کاشتکاروں کو جدید زرعی رجحانات سے آگاہی فراہم کرنا ہو گی تاکہ گندم کی بمپر کراپ حاصل ہوسکے۔
جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین اصلاح آبپاشی نے بتایاکہ گندم پاکستان کی اہم ترین غذائی جنس ہے جس سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اس کی برآمد سے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیاجاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم کو پانی کی مقدار پراثر انداز ہونیوالے عوامل میں آب و ہوا زمینی صحت، ساخت اور زرخیزی،طریقہ کاشت، وقت کاشت، زمینی تیاری و ہمواری، فصلی ترتیب، پانی کی دستیابی، ذریعہ آبپاشی اور بارش شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کیلئے باکفایت آبپاشی ضروری ہے کیونکہ اگر گندم کی فصل کو بروقت پانی نہ دیا جائے تو اس سے پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی میں کمی بیشی ہمارے ملکی آبی وسائل کو کافی متاثر کر رہی ہے جس کا براہ راست اثر پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق جس کے استعمال سے ایک تو پانی کی بچت ہو اور دوسری طرف نازک اوقات کی بروقت نشاندہی بہت اہم ہے۔ انہوں نے بتایاکہ سائنسدانوں کی دن رات کی کاوشوں اور تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گندم کی نشوونما اور بڑھوتری کیلئے بعض اوقات بڑے نازک ہوتے ہیں جہاں پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے ان اوقات میں پانی کی کمی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔









