15.7 C
Islamabad
جمعہ, مارچ 28, 2025
ہومتازہ ترینکسان کو بہترین بیج، کھاد اور اصلی زرعی ادویات کی مناسب قیمت...

کسان کو بہترین بیج، کھاد اور اصلی زرعی ادویات کی مناسب قیمت پر فراہمی سے دوبارہ زرعی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کا بہترین بیج اب پاکستان میں ہی تیار کیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب

- Advertisement -

اسلام آباد۔24مارچ (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کیلئے زرعی شعبہ کی ترقی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کسان کو بہترین بیج، کھاد اور اصلی زرعی ادویات مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں تو دوبارہ زرعی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، جنوبی کوریا کے تعاون سے آلو کا بہترین بیج اب پاکستان میں ہی تیار کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں نیشنل ایگریکلچرل اینڈ ریسرچ سنٹر کے دورہ کے دوران جدید ایروپانکس طریقے سے کاشت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سنٹر اسلام آباد میں سیڈ پوٹاٹو پروڈکشن اینڈ ایروپانکس کمپلیکس کا افتتاح کیا گیا، یہ کمپلیکس اعلیٰ درجے کی ایروپانکس ٹیکنالوجی کے ذریعے آلو کے تصدیق شدہ بیج کی پیداوار کے لئے کوریا پارٹنرشپ فار انوویشن آف ایگریکلچر (کوپیا) اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے درمیان ایک اہم شراکت داری کا حامل منصوبہ ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں آلو کے بیج کے معیار اور دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی، اس کا مقصد آلو کی پیداوار کی لاگت کو کم کرنا اور مناسب قیمت پر معیاری بیج آلو کی دستیابی کو یقینی بنا کر پیداوار میں بہتری لانا ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین سمیت وفاقی وزراء، ارکان اسمبلی، جنوبی کوریا کے قائم مقام سفیر، زرعی ماہرین بھی موجود تھے۔

- Advertisement -

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ پاکستان کے زرعی سائنسدان اور ماہرین بڑی محنت اور لگن سے زراعت کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان کی کاوشوں کی بدولت ہمارا زرعی شعبہ ضرور ترقی کرے گا۔ وزیراعظم نے جمہوریہ کوریا کے تعاون سے آلو کے بیج کی تیاری کیلئے ادارے کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کوریا کی حکومت اور سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے جنوبی کوریا کی مضبوط معیشت اور زراعت، سٹیل اور صنعتوں میں ان کی اقتصادی ترقی کی مہارت کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کوریا کے مضبوط تعلقات ہیں جنہیں مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ملکی آبادی کا 65 فیصد دیہات زراعت سے وابستہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی کسان محنتی، جفاکش اور قابل ہیں، انہیں بہترین بیج، کھاد اور اصلی زرعی دوائیں مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں تو پاکستان میں دوبارہ زرعی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، اس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا، کسانوں کو جعلی ادویات سے بچانا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین اور دریا دیئے ہیں، ہمارے سائنسدان اور زرعی ماہرین نہایت قابل ہیں، لاکھوں بچے اور بچیاں زرعی شعبہ میں گریجویٹس ہیں، اگر انہیں مناسب ماحول مہیا کیا جائے تو چند سالوں کے اندر زراعت اتنی توانا ہو جائے گی کہ ملکی ضروریات بھی پوری ہوں گی اور اضافی اناج اور غلہ برآمد بھی کیا جا سکے گا لیکن یہ کام تقریروں اور اشعار سے نہیں دن رات محنت سے ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت میں پاکستان کی زرعی شعبہ میں ترقی شاندار تھی لیکن آج کپاس کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس جدید سنٹر کے قیام سے آلو کا بہترین بیج کسانوں کو مہیا کیا جائے گا اور باہر سے منگوانا نہیں پڑے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ بیج انتہائی بہترین ہو گا اور اس سے آلو کی پیداوار کو ترقی ملے گی اور پاکستان آلو برآمد کرنے کے قابل بھی ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ممالک زرعی شعبہ میں ہم سے آگے نکل گئے، ہم بروقت اقدامات نہیں کر سکے، اگر وقت پر فیصلے کرتے تو کپاس میں آج خود کفیل ہوتے، گنے کی فصل میں ہماری فی ایکڑ پیداوار دوسرے ممالک سے کم ہے، ہمیں اپنے کسان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس کی محنت کی وجہ سے زرعی شعبہ چل رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کیلئے زرعی شعبہ کی ترقی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، زراعت کی ترقی سے ہی معیشت ترقی کرے گی۔ وزیراعظم نے ایس ایم ایز پر زور دیا کہ وہ دیہات میں نوجوانوں میں سرمایہ کاری کریں، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار بڑھائی جائے، کولڈ سٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبہ میں بہتری لانا ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں اگر ضروری اقدامات کئے جاتے تو آج صورتحال بہت بہتر ہوتی، اب رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں، محنت اور لگن سے زرعی شعبہ میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، ایک ہزار فریش گریجویٹس کو تربیت کیلئے چین بھجوایا جا رہا ہے تاکہ وہ وہاں سے تربیت لے کر آئیں اور واپس آ کر پیداوار بڑھانے میں کسان کی مدد کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود قیمتی زرمبادلہ خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ کر رہا ہے، اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، لائیو سٹاک کے شعبہ میں بھی بہت بہتری لائی جا سکتی ہے، ملکی معیشت میں زراعت کا حصہ بڑھانے کے مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جائے تو خطے کے ممالک کو ہم پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے نجی شعبہ کے اشتراک سے زرعی مشینری مقامی طور پر تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جلد زرعی شعبہ کے ڈگری ہولڈرز اور ماہرین کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وزیراعظم کی قیادت میں حکومت سبز انقلاب کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شعبہ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلو کے بیج کا منصوبہ منفرد نوعیت کا ہے جس سے پاکستان اعلیٰ معیار کے آلو کے بیج کی پیداوار میں خودکفیل ہونے کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شراکت داروں کے تعاون سے زرعی شعبے کی ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں،جدید سہولیات سے آراستہ مرکز پیداوار میں اضافے کا باعث ہوگا۔

آر ڈی اے کوریا کے ایڈمنسٹریٹر کوان جے ہان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد زرعی شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این اے آر سی کے ساتھ آلو کے بیج میں اشتراک کار اہم سنگ میل ہے، اس منصوبے کے ذریعے آلو کے بیج کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی۔قبل ازیں وزیراعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیو ٹیکنالوجی کا بھی افتتاح کیا۔ یہ ایک خصوصی قومی ادارہ ہے جو پودوں، جانوروں اور جرثوموں کے تینوں ڈومینز میں زرعی تحقیق کے لئے وقف ہے، یہ بائیو ٹیکنالوجی کا ایک کمپلیکس ہے جس میں 28 جدید ترین لیبز ہیں۔ پی اے آر سی کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی کے مطابق آلو کی روایتی کاشت سے فی پودا صرف پانچ ٹیوبر پیدا ہوتے ہیں جبکہ ایرو پونک سسٹم فی پودا 50 سے 60 کے درمیان ٹیوبر پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جدید ٹیکنالوجیز نہ صرف بیج آلو کی مقامی کھپت کو پورا کرنے میں مدد کرے گی بلکہ اس سے بھاری درآمدی بل کو بھی کم کیا جائے گا۔ تقریباً 850,000 ایکڑ رقبے پر آلو کاشت کرنے کے باوجود پاکستان مقامی طور پر تیار کئے جانے والے بیجوں کی کوالٹی خراب ہونے کی وجہ سے سالانہ 6,000 سے 12,000 ٹن آلو کے بیج کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔

پروجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے میں چار ایروپونک گرین ہائوسز اور 35 سکرین ہائوسز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کولڈ سٹوریج کی سہولت اور100 کلو واٹ شمسی توانائی کے نظام کا قیام شامل ہے۔ وزیراعظم نے این اے آر سی میں لیبارٹریز اور پوٹاٹو فارمز کے ادارہ کا دورہ بھی کیا۔ وہ این اے آر سی کے ڈسپلے سٹالز پر بھی گئے جہاں پر زرعی مصنوعات اور جدید زرعی آلات رکھے گئے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم کو زرعی محققین کی طرف سے بریفنگ بھی دی گئی۔

 

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=575917

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں