اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)نے ملک بھر کی چوزہ ہیچریوں کو گٹھ جوڑ بنا کر ایک دن کے چوزے کی قیمت بڑھانے پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے ہیچریوں کو پچھلے تین ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر ایک دن کے چوزے ( ڈے-اولڈ چِک ) کی قیمتوں کا ریکارڈ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ چوزوں کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا جائزہ لیا جا سکے۔
سی سی پی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کمیشن کو ایک دن کے چوزے کی قیمتوں میں ہیچریوں کے گٹھ جوڑ کے ساتھ مسلسل اضافے سے متعلق متعدد شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ایک دن کے چوزے کی قیمتوں میں غیرمعمولی طور پر 250 فیصد اضافہ ہوا ، جس کے نتیجے میں فی چوزہ نرخ اوسطاً 50 سے 60 روپے سے بڑھ کر 220 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ کمپٹیشن کمیشن اس اچانک اور غیر متناسب اضافے کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا یہ مارکیٹ میں طلب و سپلائی اور دیگر عوامل کے نتیجے میں ہوا ہے یا اس میں ہیچریوں میں گٹھ جوڑموجود ہے ۔
اس سلسلے میں موصول ہونے والی زیادہ تر شکایات میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک دن کے چوزے کی قیمت کو متعلقہ صوبائی لائیو سٹاک کے محکموں نے قیمت برقرار رکھی جانے والی ضروری اشیاء کی فہرست میں شامل نہیں کیا ، جس کے باعث اس کی قیمتوں کا تعین مکمل طور پر سپلائرز کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے برعکس، بر ائلر مرغی جو کہ ایک ضروری شے کے طور پر درج ہے ،اس کی قیمتیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقرر کی جاتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولٹری سیکٹر کے اس اہم حصے میں شفافیت اور احتساب کی فوری ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ کمپٹیشن کمیشن نے دسمبر 2021 میں بھی پولٹری سیکٹر میں جامع تحقیقات کیں، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک دن کا چوزہ ( ڈے اولڈ چک) پیدا اور فروخت کرنے والی کمپنیاں، جن کا مارکیٹ میں شیئر 50 فیصد سے زائد تھا ، مبینہ طور پر قیمتوں کے تعین کے لئے کارٹیل بنا کر گٹھ جوڑ میں ملوث ہیں۔ ان کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور متعلقہ فریقین کے ساتھ سماعتوں کا سلسلہ جاری ہے۔