کوئٹہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں تاجر محمد ہاشم جاں بحق، وزیرداخلہ بلوچستان نے کا نوٹس لیکر پولیس سے رپورٹ طلب کرلی

کوئٹہ کے علاقے بلیلی روڈ کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں تاجر محمد ہاشم نورزئی جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعہ ہفتے کی صبح تھانہ کچلاک کوئٹہ کی حدود میں عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا،محمد ہاشم نورزئی جو وزیر آباد کچلاک کے رہائشی تھے اپنی ذاتی گاڑی میں گھر سے شہر کی جانب جا رہے تھےکہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی …

کوئٹہ۔ 27 جون (اے پی پی):کوئٹہ کے علاقے بلیلی روڈ کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں تاجر محمد ہاشم نورزئی جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعہ ہفتے کی صبح تھانہ کچلاک کوئٹہ کی حدود میں عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا،محمد ہاشم نورزئی جو وزیر آباد کچلاک کے رہائشی تھے اپنی ذاتی گاڑی میں گھر سے شہر کی جانب جا رہے تھےکہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں محمد ہاشم نورزئی جان بحق ہوگئے،کوئٹہ پولیس ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور مختلف پہلووٴں سے تحقیقات جاری ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیجز، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے تاجر رہنما و نجی ہوٹل کے مالک ہاشم خان نورزئی کے قتل کا نوٹس لیکر متعلقہ حکام سے واقعے کی 24 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،ترجمان وزارت داخلہ بلوچستان کے مطابق وزیر داخلہ نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔

وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا،وزیر داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تحقیقات ہر پہلو سے مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائی جائیں کیونکہ امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اورحکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے اس لیے تاجربرادری حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔