24.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومتازہ ترینکوشش ہے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو،ٹیکس نظام سمیت اقتصادی...

کوشش ہے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو،ٹیکس نظام سمیت اقتصادی اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا، سینیٹر محمد اورنگزیب

- Advertisement -

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ معاشی استحکام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں کلیدی معاشی اشاریے مثبت ہیں، کوشش ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو،ٹیکس نظام سمیت اقتصادی اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا۔

انہوں نے یہ بات پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔کونسل کےچیئرمین شبیر دیوان نے ملکی معیشت میں پچھلے 9مہینوں میں استحکام کے لئے ہونے والی نمایاں پیشرفت کی تعریف کی۔ اس موقع پر پی بی سی کے اراکین نے بھی وزیر خزانہ کے خیالات کی تائید کی۔

- Advertisement -

وزیر خزانہ نے کونسل کو دوہرےخساروں میں کمی اور حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جن کا مقصد موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کو آخری پروگرام بنانا ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کے تحت ٹیکس اقدامات کے نتیجے میں رسمی شعبے کی قربانیوں کو سراہا اور یقین دلایا کہ مالی گنجائش پیدا ہونے پر یہ بوجھ کم کر دیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے پی بی سی کی تحقیق اور کونسل کی ٹیکس کے حوالے سے معروضی وکالت اور "میڈ ان پاکستان” تھیم کو خصوصی طور پر سراہا۔

انہوں نے پی بی سی کی اس رپورٹ کو بھی سراہا جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) کی درجہ بندی کو واضح کیا گیا ہے۔ پی بی سی کے اراکین نے غیر روایتی اشیاء کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے تجاویز دیں جن میں موجودہ غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زور دیا گیا۔ ٹیکسٹائل کے حوالے سے پی بی سی نے حکومت سے امریکی کپاس سے تیار کردہ ملبوسات کی برآمد پر کم ٹیرف کے لئے مذاکرات کرنے کی درخواست کی۔

برآمدی سہولت سکیم کے تحت مقامی صنعت کو برآمد کنندگان کو بغیر سیلز ٹیکس کے سپلائی کی اجازت دینے اور کم مارجن والی اشیاء کی برآمد پر 2 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ وزیر خزانہ نے درآمدی متبادل کیلئےایف ایم سی جی سیکٹر کی مقامی سطح پر ان پٹس کو انڈیجینائز کرنے میں ہونے والی پیشرفت کو سراہا۔ ٹیکس کے حوالے سے اراکین نے غیر رسمی شعبے کے مقابلے میں غیر مساوی مواقع کو اجاگر کیا۔

وزیر خزانہ نے رسمی شعبے سے درخواست کی کہ وہ ایسے ٹیکس چوروں کی نشاندہی میں حکومت کی مدد کریں۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ہونے والی تبدیلیوں اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں