رحیم یارخان ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کپاس کی کاشت کے حوالے سے سیمینار کا انعقادکیاگیا۔سیمینار میں کپاس کی کاشت میں اضافے، پیداوار میں بڑھوتری کے طریقہ کار پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تقریب میں زرعی سائنسدان، ذراعت سے وابستہ مختلف کمپنیوں اور تنظیموں کے نمائندگان، کسانوں اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تقریب کاانعقاد خواجہ فرید …
کپاس کی کاشت میں اضافہ سے زرمبادلہ کو بڑھائے جا سکتے ہیں،وائس چانسلرخواجہ فرید یونیورسٹی
رحیم یارخان ۔ 10 اکتوبر (اے پی پی):خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کپاس کی کاشت کے حوالے سے سیمینار کا انعقادکیاگیا۔سیمینار میں کپاس کی کاشت میں اضافے، پیداوار میں بڑھوتری کے طریقہ کار پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب میں زرعی سائنسدان، ذراعت سے وابستہ مختلف کمپنیوں اور تنظیموں کے نمائندگان، کسانوں اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ تقریب کاانعقاد خواجہ فرید یونیورسٹی نے ڈبلیو ڈبلیو ایف اور آرٹسٹک ملنرز کے تعاون سے کیا ۔ تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر بھی شریک ہوئے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد پوری دنیا میں کپاس کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی کم کاشت کی وجہ سے پاکستان کو اس وقت کاٹن کی تاریخی کمی کا سامنا ہے۔ ہمیں کپاس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی اور پیداوار میں اضافے کے لیے جدت اپنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا ذراعت کا شعبہ بذات خود ایک بہت بڑی صنعت کا روپ دھار چکا ہے۔ جدید بیجوں، ٹیکنالوجی اور ماہرین کی رائے سے نہ صرف کپاس جیسی کیش کراپ کو پھر سے کاشت کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے کثیر زرمبادلہ بھی کمایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ذرعی ماہرین اور ذراعت کے طالب علم اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تقریب میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے حافظ محمد جنید،میاں قدیر احمد، توحید چشتی، ثاقب سہیل، اکبر علی، مس علینہ، ڈاکٹر یاسر نیاز، ڈاکٹر عدنان نور شاہ اور ڈاکٹر بشارت سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں میں کاٹن کاشت کرنے کے رقبے میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ناقص بیچ نے مجموعی طور پر کاٹن کی فصل کی پیداوار کو شدید متاثر کیا اور آج صورت حال اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار کے لیے ریکارڈ کاٹن بیرون ملک سے درآمد کرنے پڑ رہی ہے جو کہ تشویشناک امر ہے۔انہوں نے کپاس کی اہمیت ، اس حوالے سے ہونے والے حکومتی اقدامات اورکپاس کی کاشت کے حوالے سےبھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ آخر میں مہمانوں میں شیلڈز اور سرٹیفکٹس تقسیم کیے گئے جب کہ کسانوں کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ان کے لیے انتہائی معاون ثابت ہوئی اور وہ اس پر انتظامیہ کے شکر گزار ہیں









