کیپٹل ایمرجنسی سروس:اسلام آباد میں ستمبر کے دوران 1475 ہنگامی کالز پر رسپانس، 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں جلد بیڑے میں شامل ہوں گی

کیپٹل ایمرجنسی سروس:اسلام آباد میں ستمبر کے دوران 1475 ہنگامی کالز پر رسپانس، 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں جلد بیڑے میں شامل ہوں گی

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات اور چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کی مؤثر اور فعال نگرانی میں کیپٹل ایمرجنسی سروس (سی ای ایس)، سی ڈی اے نے ستمبر 2026 کے دوران اسلام آباد بھر میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، ریسکیو اور طبی امداد کی جامع کارروائیاں جاری رکھیں، اس دوران کیپٹل ایمرجنسی سروس نے مجموعی طور پر1475 ہنگامی کالز پر بروقت رسپانس دیا۔ستمبر 2026 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیپٹل ایمرجنسی سروس شہریوں کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں وسیع ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے جن میں طبی ہنگامی صورتحال، ٹریفک حادثات، آتشزدگی کے واقعات، ریسکیو آپریشنز، پانی نکالنے، جانوروں کے ریسکیو اور دیگر ہنگامی حالات شامل ہیں۔ستمبر 2026 کی ماہانہ ایمرجنسی رپورٹ کے مطابق کیپٹل ایمرجنسی سروس نے 1,152 ایمرجنسی میڈیکل سروس کالز پر رسپانس دیاجو ماہانہ کارروائیوں میں سب سے بڑی کیٹگری رہی۔ ان میں 544 طبی ہنگامی صورتحال، 433 ٹریفک حادثات، 120 متفرق کیسز، 46 گرنے کے واقعات، 6 جرائم سے متعلق کیسز اور 3 ڈوبنے کے واقعات شامل تھے۔

ستمبر 2026 کے دوران کیپٹل ایمرجنسی سروس نے 82 آتشزدگی کے واقعات پر بھی کارروائی کی جن میں 29 بجلی سے لگنے والی آگ، 10 گھروں میں آتشزدگی، 6 گاڑیوں میں آگ، ایل پی جی/گیس یا مائع سے متعلق 2 دھماکے/آتشزدگی کے واقعات، 17 عمارتوں/کمرشل علاقوں میں آتشزدگی، 7 گرین ایریاز میں آگ اور 11 کچرے میں آگ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔اس کے علاوہ کیپٹل ایمرجنسی سروس کی ٹیموں نے 123 ریسکیو آپریشنز بھی انجام دیئے جن میں 44 پانی نکالنے کے آپریشنز، ایک منہدم ڈھانچے کا واقعہ، پہاڑی علاقوں/کنوؤں/ٹریپ سے متعلق 11 ریسکیو آپریشنز، 65 جانوروں کے ریسکیو کیسز اور 2 گرے ہوئے درختوں کے واقعات شامل تھے۔کیپٹل ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں ماہ ستمبر کے دوران ہنگامی اور سکیورٹی سے متعلق فرائض میں بھی مصروف رہیں۔ اس دوران 100 ایمرجنسی/ایونٹ کَور ڈیوٹیز اور 18 موٹرکیڈ ڈیوٹیز انجام دی گئیں، یوں مجموعی طور پر 118 تعیناتیاں کی گئیں۔کیپٹل ایمرجنسی سروسز کی ستمبر 2026 رپورٹ کے مطابق ہنگامی صورتحال میں مجموعی طور پر 1,013 متاثرین شامل تھے جن میں 979 زخمی/بیماری کے کیسز اور 34 اموات شامل ہیں جبکہ 148 کیسز کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی اور 865 افراد کو مزید طبی امداد کے لئے منتقل کیا گیا۔

شہریوں کی جانب سے کیپٹل ایمرجنسی سروس کی کارکردگی کو سراہا گیا۔کیپٹل ایمرجنسی سروس کی جانب سے ہنگامی صورتحال میں بروقت اور پیشہ وارانہ رسپانس کو اسلام آباد کے شہریوں کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ شہریوں نے طبی ہنگامی صورتحال، ٹریفک حادثات، آتشزدگی اور دیگر سنگین حالات میں کیپٹل ایمرجنسی سروس کے اہلکاروں کی جانب سے فوری امداد اور خدمات پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔ کیپٹل ایمرجنسی سروس کی مسلسل دستیابی اور تربیت یافتہ ٹیموں کی پیشہ وارانہ کارکردگی اسلام آباد میں مؤثر ایمرجنسی رسپانس سسٹم پر شہریوں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اسلام آباد کا ایمرجنسی رسپانس مزید مضبوط بنانے کے لئے 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں جلد کیپٹل ایمرجنسی سروس کا حصہ بنیں گی۔وفاقی دارالحکومت میں ایمرجنسی رسپانس اور فائر فائٹنگ کی صلاحیت مزید بہتر بنانے کے لئے 21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیاں کراچی پورٹ پہنچ گئی ہیں جو جلد اسلام آباد پہنچ کر ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے بیڑے میں شامل ہوں گی۔نئے بیڑے کی آمد اسلام آباد کے ایمرجنسی رسپانس انفراسٹرکچر میں ایک بڑی توسیع ہے جو 17 سال کے وقفہ کے بعد عمل میں آئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف کے ہمراہ 29 ستمبر 2026 کو کراچی پورٹ کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیوں کا معائنہ کیا۔نئی گاڑیاں جلد اسلام آباد پہنچنے کے بعد کیپٹل ایمرجنسی سروس اور فائر بریگیڈ کی آپریشنل صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے استعمال کی جائیں گی۔نئی گاڑیاں اسلام آباد کے چھ ایمرجنسی سٹیشنز کے ذریعے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گی جس سے ایمرجنسی ٹیموں کو پیچیدہ اور خصوصی نوعیت کی ہنگامی صورتحال سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے اضافی آپریشنل صلاحیت حاصل ہو گی۔ نئی گاڑیوں میں 4 ایریل فائر ٹرکس، 6 فائر ٹاورز اور 5 فائر ٹینڈرز شامل ہیں جو جدید ریسکیو اور فائر فائٹنگ آلات سے لیس ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کو دی گئی بریفنگ کے مطابق یہ خصوصی گاڑیاں 256 فٹ تک کی بلندی پر فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں جس سے بلند عمارتوں اور مشکل رسائی والے مقامات پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی اسلام آباد کی صلاحیت نمایاں طور پر بہتر ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے نئی گاڑیوں کی آمد کو اسلام آباد کی ایمرجنسی سروسز کے لئے ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی گاڑیوں کے فلیٹ کی شمولیت 2009 کے بعد اسلام آباد ریسکیو فلیٹ میں سب سے بڑی توسیع ہے اور اضافہ ہے ۔انہوں نے نئی گاڑیوں کی فراہمی میں تیزی لانے پر حکومتِ چین کا بھی شکریہ ادا کیا۔نیا فلیٹ اس لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے کہ کیپٹل ایمرجنسی سروس نے صرف ستمبر 2026 کے دوران 1,475 ہنگامی صورتحال پر رسپانس دیا۔ جدید ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیوں کی شمولیت، تربیت یافتہ عملے اور موجودہ آپریشنل وسائل کے ساتھ مل کر، معمول کے ساتھ ساتھ پیچیدہ اور سنگین ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی۔نئی گاڑیاں بالخصوص آتشزدگی، ٹریفک حادثات، بلند عمارتوں میں ہنگامی صورتحال، ریسکیو آپریشنز اور دیگر ایسے واقعات میں رسپانس کو مزید مؤثر بنائیں گی جہاں جدید اور خصوصی ریسکیو و فائر فائٹنگ آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کے ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو جدید بنانے، فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور شہریوں کو بروقت، مؤثر اور پیشہ وارانہ امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔21 نئی ریسکیو و فائر فائٹنگ گاڑیوں کی آمد، وفاقی وزیر داخلہ کی خصوصی توجہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی مؤثر نگرانی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروس کی مسلسل پیشہ وارانہ کارکردگی کے ساتھ اسلام آباد کے شہریوں کو مزید مضبوط، تیز رفتار، جدید اور بہتر طور پر لیس ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔