اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):رجسٹرار وفاقی ٹیکس محتسب خالد جاوید نے کہا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران وفاقی ٹیکس محتسب کو ساڑھے 6 ہزار کے لگ بھگ شکایات موصول ہوئی ہیں، وفاقی ٹیکس محتسب کے اقدامات اور سفارشات کے باعث وفاقی کابینہ نے یونیورسٹیوں کے کل وقتی اساتذہ اور محققین کیلئے 25 فیصد ٹیکس چھوٹ بحال کی ہے، وفاقی ٹیکس محتسب سیکرٹریٹ میں سفارتی مشنز کے ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کیلئے ڈپلومیٹک گریوینسز سیل قائم کیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وفاقی ٹیکس محتسب کے ایڈوائزر لیگل و میڈیا الماس جوندا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رجسٹرار وفاقی ٹیکس محتسب خالد جاوید نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب میں گذشتہ تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 6452 شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ گذشتہ سال اس عرصہ کے دوران 2739 شکایات موصول ہوئی تھیں، رواں سال ماہ جنوری میں 661، فروری میں 2747 اور مارچ میں 1970 شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ گذشتہ سال جنوری میں 661، فروری میں 1009 اور مارچ میں 1069 شکایات موصول ہوئی تھیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی ٹیکس محتسب کو موصول ہونے والی شکایات میں 240 فیصد کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس محتسب کی کوششوں کے باعث ٹیکس دہندگان کو 25 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے الماس جوندا نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے پانچ ہزار سے زائد درخواستوں پر انکم ٹیکس میں 25 فیصد رعایت بحال کرنے کی سفارشات پیش کی تھیں، وفاقی کابینہ نے یونیورسٹیوں کے کل وقتی اساتذہ اور محققین کیلئے 25 فیصد ٹیکس چھوٹ بحال کر دی ہے، یہ تاریخی فیصلہ وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک 13500 شکایات نمٹائی ہیں جو کہ ادارے پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کو پاکستان میں مقیم سفارتی برادری کو درپیش کسٹمز اور سیلز ٹیکس کے ریفنڈ سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں، وفاقی ٹیکس محتسب نے ان شکایات کے ازالہ کیلئے ڈپلومیٹک گریوینسز ریہرسل قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی عملہ میں ٹیکس سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے 11 اپریل کو ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں مختلف ممالک کے سفارتکار شرکت کریں گے
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=576758