اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 337-D کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب زخم جسم کے دھڑ (Trunk) تک پھیلے جبکہ گردن پر لگنے والا زخم قانونی طور پر دھڑ کا حصہ تصور نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق اس قانونی نکتے کی بنیاد پر …
گردن پر زخم کو دفعہ 337-D کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 337-D کا اطلاق صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب زخم جسم کے دھڑ (Trunk) تک پھیلے جبکہ گردن پر لگنے والا زخم قانونی طور پر دھڑ کا حصہ تصور نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق اس قانونی نکتے کی بنیاد پر عدالت نے فائرنگ کے ایک مقدمے میں ملزم کو دفعہ 337-D کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی۔یہ فیصلہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے فوجداری پٹیشن نمبر 71-P/2025 کی سماعت کے بعد سنایا۔
کیس کا تعلق تھانہ ملگوری، ضلع خیبر میں درج ایف آئی آر نمبر 08/2023 سے تھا، جو 10 فروری 2023 کو جائیداد کے تنازع پر فائرنگ کے واقعے کے بعد درج کی گئی تھی۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم اسٹانا دار نے مبینہ طور پر محمد عیین پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گولی گردن کے پچھلے حصے میں لگی اور سامنے سے نکل گئی۔ ایف آئی آر وقوعہ کے چند گھنٹوں کے اندر درج کی گئی جبکہ زخمی کا اسی روز طبی معائنہ کیا گیا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو دفعہ 324 کے تحت سات سال قید بامشقت اور جرمانہ، دفعہ 336 کے تحت پانچ سال قید بامشقت بمعہ ارش جبکہ دفعہ 337-D کے تحت بھی سزا سنائی تھی۔
پشاور ہائی کورٹ نے بعد ازاں دفعہ 336 اور 337-D کے تحت قید کی سزائیں ختم کرتے ہوئے ارش ( زخم کا تاوان ) برقرار رکھا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ نے دفعہ 324 اور 336 کے تحت الزام شک سے بالاتر ثابت کیا ہے، اس لیے ان دفعات کے تحت سزا برقرار رہے گی، تاہم دفعہ 337-D کے عناصر ثابت نہ ہونے پر اس حصے میں سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری قوانین میں دفعات کا اطلاق طبی و قانونی تعریفات کے مطابق کیا جانا لازم ہے۔








