اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا …
گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا ، صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ کالے دھن کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ جمعرات کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 2019-20ءکے بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ صدر نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں بہت اچھا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جاری عمل ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ میں چاہتا ہوں کہ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں، ٹیکس گوشواروں کے نظام کو مزید عام فہم بنایا جائے اور ٹیکس گزاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔








