گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق جرمانے کا کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق جرمانے کا کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق مسابقتی کمیشن کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے کے خلاف مینوفیکچررز آف وناسپتی ایسوسی ایشن کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بدھ کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایسوسی ایشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی درخواست پر گھی اور آئل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی اور اس حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی کمیشن نے 2008ء کے ریکارڈ کی بنیاد پر 2010ء میں کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا، حالانکہ قیمتوں میں کمی صارفین کے مفاد میں کی گئی تھی۔
مسابقتی کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کہنے پر بھی ایسوسی ایشن قیمتوں میں کمی کا فیصلہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ ایسوسی ایشن کے پاس قیمتوں کے تعین کا اختیار نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسوسی ایشن اجتماعی طور پر قیمتوں سے متعلق فیصلے کرے تو مسابقتی ماحول متاثر ہوتا ہے جبکہ آزاد مسابقت ہی قیمتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک میں مسائل کی بنیادی وجوہات کو نہیں دیکھا جاتا۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ پولٹری کیس میں بھی ایسوسی ایشن پر جرمانے کا فیصلہ آ چکا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے مزید ریمارکس دیئے کہ اگر مسابقتی کمیشن کا موقف تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل میں حکومت بھی کسی معاملے میں موثر کردار ادا نہیں کر سکے گی۔عدالت کو بتایا گیا کہ مسابقتی کمیشن نے 2010ء میں قیمتوں میں کمی کے فیصلے پر ایسوسی ایشن پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔








