فارسی زبان اور اس سے وابستہ علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع ناگزیر ہے، ماہرین تعلیم و محققین

ماہرین تعلیم اور محققین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی علمی، فکری اور تہذیبی تاریخ کو سمجھنے کے لیے فارسی زبان اور اس سے وابستہ علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع ناگزیر ہے۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):ماہرین تعلیم اور محققین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی علمی، فکری اور تہذیبی تاریخ کو سمجھنے کے لیے فارسی زبان اور اس سے وابستہ علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے (آئی آر آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک علمی لیکچر اور مکالمے کے دوران کیا گیا جس میں دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لیکچر کے اختتام پر منعقدہ سوال و جواب کی نشست میں شرکا نے جنوبی ایشیا میں فارسی خواندگی کے بتدریج زوال، مقامی علمی روایات سے دوری اور مقامی دانش کے نظاموں کی اہمیت پر گفتگو کی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے فکری ورثے سے موثر استفادہ اسی صورت ممکن ہے جب نئی نسل کو اپنی تاریخی علمی روایت سے جوڑا جائے۔

تقریب کے اختتامی کلمات میں اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ برصغیر کے تاریخی مدارس کا نصاب عربی اور فارسی دونوں علمی روایات پر استوار تھا جس نے اصل متون، شروح اور حاشیوں کے مطالعے کی ایک مضبوط اور متحرک علمی ثقافت کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علمی تسلسل اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ مسلم معاشروں میں فکری زوال مکمل طور پر غالب آچکا تھا، بلکہ مسلم علمی روایت نے مختلف ادوار میں اپنی قوت اور لچک کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی دور میں پیدا ہونے والے شدید فکری اور مناظرانہ ماحول نے مسلم علماء کو اپنی ادبی اور علمی میراث کے دفاع اور اس کی نئی تشریحات پیش کرنے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں علمی مباحث اور فکری مکالمے کی نئی جہتیں سامنے آئیں۔

ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ مسلم علمی روایت کی تاریخ تحقیق، تنقیدی مطالعے اور علمی تبادلہ خیال سے عبارت ہے جس نے صدیوں تک علمی سرمائے کے تحفظ اور اس کی منتقلی کو یقینی بنایا۔ تقریب نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر احمد سعد الاحمد کے اس وژن کی بھی عکاسی کی جس کے تحت علمی معیار، بین الاقوامی تعاون اور تحقیق پر مبنی مکالمے کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلامی تحقیقاتی ادارے نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی علمی سرگرمیوں، تحقیقی مکالموں اور قومی و بین الاقوامی جامعات و محققین کے ساتھ تعاون کے ذریعے علم و تحقیق کے فروغ میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔