انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کے حوالہ سے میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) نے کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے اپنے منصوبے کے حوالے سے میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا جو شہری سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور زیرِ زمین آبی وسائل کی بحالی کے لئے ایک منفرد قدرتی حل ہے۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی ڈبلیو ایم آئی) نے کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے اپنے منصوبے کے حوالے سے میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا جو شہری سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور زیرِ زمین آبی وسائل کی بحالی کے لئے ایک منفرد قدرتی حل ہے۔

اس موقع پر پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں نے منصوبے کے مقام کا دورہ کیا اور شہری آبی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے کے لئے متعارف کرائے گئے جدید اقدامات کا مشاہدہ کیا۔ دورے کے دوران آئی ڈبلیو ایم آئی کے سٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے واٹر فوڈ اینڈ ایکو سسٹمز ڈاکٹر محسن حفیظ نے صحافیوں کو منصوبے کے مقاصد، عملی طریقہ کار اور پائیدار شہری آبی تحفظ میں اس کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد بارش کے پانی کو جمع کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانا ہے جس سے سطحی بہاؤ اور سیلاب کے خطرات میں کمی کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر کی بحالی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قدرتی حل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ شہری انفراسٹرکچر کی ترقی کے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر محسن حفیظ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ملک بھر میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کو فروغ دیں اور اسے لازمی قرار دیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبی قلت اور پانی سے متعلق دیگر چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے تناظر میں پاکستان کے لئے طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ایسے پائیدار طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر محسن حفیظ نے کہا کہ ان اقدامات کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ پائیدار آبی نظم و نسق کے طریقوں کو پاکستان کے شہری علاقوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔