22.7 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومزرعی خبریںہائبرڈ بیج کے استعمال سے پاکستان میں خوراک کی کمی کو پورا...

ہائبرڈ بیج کے استعمال سے پاکستان میں خوراک کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے، شہزاد علی ملک

- Advertisement -

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):ہائبرڈ بیج ہی پاکستان میں خوراک کی کمی کو پورا کرنے میں مدد کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بمپر پیداوار دیتے ہیں اور بنجر علاقوں میں بھی کم زرخیز زمین پر کاشت کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات اتوار کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین شہزاد علی ملک ستار امتیاز نے محمد راشد بھٹہ کی قیادت میں لیہ سے آنے والے ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ روس ۔یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم کی قیمتوں میں عالمی سطح پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے پوری دنیا کے لیے ناقابل برداشت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یوکرین سے گندم کی درآمد پاکستان کی گندم کی کل درآمدات کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جولائی میں گزشتہ سال کے مقابلہ غذائی افراط زر کی شرح بھی 40 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی غذائی فصل کے طور پر گندم تقریباً 40 فیصد زیر کاشت رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے اور یہ کل زرعی پیداوار کا 70 فیصد ہے لیکن بہترین کوالٹی کے بیجوں کا استعمال نہ ہونے اور زرعی مداخل پر سبسڈی کی کمی کی وجہ سے ہماری پیداوار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اس موسم گرما میں جنوبی ایشیا میں گرمی کی شدید لہر آئی اور اس ”خاموش موت“ نے گندم کی فصل کو بری طرح متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ غیر مصدقہ بیجوں اور کھادوں کا غیر معقول استعمال کم پیداوار کے بڑے اسباب میں شامل ہے۔ شہزاد علی ملک نے کہا کہ گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے ڈاکٹر عبدالرشید نے 2010 میں اپنی مدد آپ کے تحت ہائبرڈ چاول کے بیج پر تحقیق کی اور کامیابی سے ہائی ٹیک ہائبرڈ چاول کی نئی قسم تیار کی جس نے زراعت میں خاص طور پر اندرون سندھ میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جس سے بمپر پیداوار کے ساتھ کاشتکاروں کے منافع میں بھی خاطر خوا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے بیجوں کی تیاری کیلئے ہمیں بیجنگ انجینئرنگ ریسرچ سینٹر کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بہترین معیار کا اور کیڑوں و بیماریوں کےخلاف مزاحم ہائبرڈ بیج تیار کیا جا سکے جو ہماری مقامی اقسام کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد زیادہ پیداوار کا حامل ہو گا۔

پاکستان میں گرمی کی لہر اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہائبرڈ گندم کا بیج 40 سینٹی گریڈ کے بلند درجہ حرارت پر بھی بہترین نتائج دے سکتا ہے۔ آخر میں شہزاد علی ملک نے فصلوں کی کاشت اور کٹائی کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ بہترین کوالٹی کے تصدیق شدہ بیجوں اور کھادوں کے متناسب استعمال کی ضرورت پر زور دیا جو اچھی پیداوار کے ضامن ہیں۔ اس سے نہ صرف اپنی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ برآمد کر کے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=324242

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں