موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد میں دو روزہ قومی سیمینار منعقد
ہلال احمر پاکستان کا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اشتراک سے دو روزہ قومی سیمینار، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور ہلال احمر پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا۔
سیمینار میں حکومتی نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے شرکت کی اور قدرتی وسائل پر مبنی حل کو ملک بھر میں فروغ دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی، وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے ایڈیشنل سیکرٹری امیر محی الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلابوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور گلیشیئرز کے پگھلنے اور شہری سیلاب جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے جنگلات، چراگاہوں، آبی ذخائر اور محفوظ قدرتی علاقوں کے تحفظ کو موسمیاتی لچک اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور ہلال احمر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ ہمارا ادارہ گزشتہ کئی برسوں سے قدرتی وسائل پر مبنی مختلف اقدامات کے ذریعے پانی کے تحفظ، سیلابی خطرات میں کمی، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور مقامی آبادی کی موسمیاتی لچک میں بہتری کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں 320 سے زائد منصوبوں کے ذریعے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے 16 اضلاع میں پانچ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ہلال احمر پاکستان کی چیئرپرسن فرزانہ نائیک کا کہنا تھا کہ موسمیاتی بحران سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے انسان اور فطرت دونوں کا تحفظ ضروری ہے۔ قدرتی وسائل پر مبنی حل کو فروغ دینے کے لیے مضبوط شراکت داری، موثر پالیسی سازی، پائیدار سرمایہ کاری اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔پینل ڈسکشن بھی سیمینار کا حصہ تھی۔ شرکا کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت، انسانی ہمدردی کی تنظیموں، تعلیمی و تحقیقی اداروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے قدرتی وسائل پر مبنی حل کو موسمیاتی موافقت، آفات سے بچائو اور پائیدار ترقی کی قومی حکمت عملی کا موثر حصہ بنایا جائے گا۔








