اسلام آباد۔01نومبر (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر ملک میں ایڈز کے خلاف ردعمل کو مزید مستحکم بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچہ ایچ آئی وی کے بوجھ سے آزاد پیدا ہو، ایچ آئی وی کے سنگین سماجی و اقتصادی اثرات ہیں۔ ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ ایڈز کا اس سال عالمی دن کا موضوع ”کمیونٹیز کو آگے بڑھنے دیں” ہے، میں اس دن ایچ آئی وی کے ردعمل کو مزید مضبوط کرنے کیلئے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی نہ صرف صحت کا مسئلہ ہے بلکہ اس کے سنگین سماجی و اقتصادی اثرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کی موجودہ وبا پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایچ آئی وی کی جانچ اور علاج کی سہولت میں وسیع خلاء نظر آتا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جن تک پہنچنے کی ضرورت ہے، کیا ہم ان لوگوں کی تشخیص کر رہے ہیں جن کو تشخیص کی ضرورت ہے اور کیا ہم حکمت عملی کے ساتھ صحیح سمت جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برسوں کی اجتماعی کوششیں، وسائل اور اس حوالے سے اقدامات اس وبا کی رفتار کو روکنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر منصوبہ بندی کیلئے اہم رکاوٹیں اور چیلنجز بدستور برقرار ہیں، یہ حقیقت ہمیں اختراعی، مؤثر اور پائیدار منصوبہ بندی کے ساتھ ایچ آئی وی کی وبا سے نمٹنے کیلئے اپنے عزم کو تیز کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے ذمہ داریوں کی ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے اور ایچ آئی وی کی روک تھام کے سیاسی اور مالی دونوں پہلوئوں کو ترجیح دینے کیلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بنیادی مقاصد میں سے ایک اس شعبہ میں اپنی کوششوں کو دگنا کرکے خاص طور پر ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنا ہے، ہمارا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچہ ایچ آئی وی کے بوجھ سے آزاد پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایڈز کی روک تھام کے نئے آلات کو اپنانے اور وسیع پیمانے پر نفاذ کی اہمیت سے آگاہ ہیں، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ خدمات ہمارے ملک کے کونے کونے تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں تفاوت کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی جائے خاص طور پر معاشرے کے وہ طبقات جو ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایچ آئی وی کے ردعمل میں مصروف اپنے تمام شراکت داروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کیلئے بروقت کارروائی کرنے کیلئے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن کے ساتھ مل کر کام کریں۔
انہوں نے متحد ہو کر تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے ایڈز سے پاک پاکستان کے اپنے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کریں، متحد ہو کر ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں صحت کی دیکھ بھال ہر ایک کا حق ہو اور کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=415563