یورپی یونین کو ایک بلاک کے طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری کی سوچ اپنانا ہو گی،صدر یورپی کمیشن

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ایک بلاک کے طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر ملکی تیار کنندہ اداروں کی فراہم کردہ مصنوعات پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی بجائے آئندہ زیادہ خود انحصاری کی سوچ اپنانا ہو گی۔

برسلز۔8جون (اے پی پی):یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ایک بلاک کے طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر ملکی تیار کنندہ اداروں کی فراہم کردہ مصنوعات پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی بجائے آئندہ زیادہ خود انحصاری کی سوچ اپنانا ہو گی۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق انہوں نے بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں جاری بیان میں کہا کہ بیرونی دنیا، خاص طور پر امریکا پر اپنے موجودہ انحصار کو واضح طور پر کم کرنے کے لیے یورپ کو اپنی سیمی کنڈکٹرز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مزید ترقی دینے کے اپنے ارادوں پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے، جن سے ہمارے ہسپتال کام کرتے رہنے کی حالت میں رہتے ہیں، ہمارے انرجی گرڈز مستحکم رہتے ہیں اور ہمارا سروسز کا شعبہ محفوظ رہتا ہے، ان سب کے لیے ہم جدید ٹیکنالوجیز کی دستیابی کی خاطر دوسروں پر انحصار کرتے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ سے زیادہ خود انحصاری اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ ہمارے لیے یہ معاملہ اپنے شہریوں کے تحفظ،مفادات کی حفاظت اور اپنے لیے ہر طرح کا انتخاب خود کر سکنے کا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر نے جدید ٹیکنالوجیز کے میدان میں آئندہ برسوں میں یورپ کی زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کے عزم کا اظہار اس سلسلے میں پائی جانے والی خاص طرح کی تشویش کے تناظر میں کیا ہے۔ یورپی یونین میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکا اور چین اپنے بہت بڑے بڑے ٹیکنالوجی اداروں کی طرف سے یورپی صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات کو محدود کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ یورپی سیاست دانوں میں اس سلسلے میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ یورپی یونین ایک بلاک کے طور پر جدید سے جدید تر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مستقبل میں امریکا، چین اور دیگر ممالک کے مقابلے میں ممکن ہے کہ بہت پیچھے رہ جائے۔ اس سلسلے میں یورپی کمیشن نے مستقبل کے لیے جن بڑے منصوبوں کا ارادہ کیا ہے، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں اس وقت جتنے بھی ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں، اگلے پانچ سے لے کر سات سالوں میں ان کی ڈیٹا سٹور کرنے کی مجموعی صلاحیت بڑھا کر کم از کم بھی تین گنا کر دی جائے گی۔