اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ثقافتی بیانیے اور عالمی ساکھ کو نئے سرے سے متعین کرنے کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر وفاقی حکومت یوم آزادی 14 اگست کے بعد ایک تاریخی قومی کلچر پالیسی کا اعلان کرے گی، یہ جامع پالیسی ملک کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے، متنوع ورثے کو …
یوم آزادی کے بعد قومی کلچر پالیسی کا اعلان کیا جائے گا، آثار قدیمہ کے مقامات کی ڈیجیٹل میپنگ جاری ہے ، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی کا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ثقافتی بیانیے اور عالمی ساکھ کو نئے سرے سے متعین کرنے کی جانب ایک بڑے اقدام کے طور پر وفاقی حکومت یوم آزادی 14 اگست کے بعد ایک تاریخی قومی کلچر پالیسی کا اعلان کرے گی، یہ جامع پالیسی ملک کی ثقافتی شناخت کو بحال کرنے، متنوع ورثے کو محفوظ بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے اے پی پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ پالیسی ہماری جڑوں، تخلیقی صلاحیتوں اور تہذیبی فخر سے وابستہ ایک قومی عہد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پالیسی دستاویز نہیں بلکہ ہماری قومی شناخت سے جڑا ایک عہد ہے جس کے ذریعے ہم پاکستان کے ثقافتی منظرنامے کو یکجا کر کے دنیا کے سامنے اپنے ورثے کو فخر سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی آخری مراحل میں ہے اور اسے تمام صوبوں، ثقافتی ماہرین، ادیبوں، فنکاروں اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد تشکیل دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد منفی تاثر کا خاتمہ اور پاکستان کا حقیقی تشخص پیش کرنا ہے، ہم ان بیانیوں کو مسترد کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے ملک کو گولیوں اور بندوقوں سے جوڑتے ہیں، ہماری سرزمین مہر گڑھ جیسی قدیم تہذیبوں کا گھر ہے جو 12ہزار سال پرانی ہے، اس کے ساتھ ہڑپہ، موہنجو دڑو اور ٹیکسلا جیسی عظیم تہذیبیں بھی موجود ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کا بڑا ثقافتی ورثہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلچر پالیسی فنکاروں اور ادبی حلقوں کو ادارہ جاتی حمایت فراہم کرے گی اور فرسودہ ڈھانچوں میں اصلاحات لائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ثقافت کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا یا کم استعمال کیا گیا اب وقت ہے کہ ہم اپنی ثقافتی شناخت اور ورثے کو زندہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس وقت 86 ممالک کے ساتھ ثقافتی تعاون کے معاہدے کیے ہوئے ہیں اور اس تعداد کو 125 تک لے جانے کے لیے کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں درجن بھر سفیروں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے اور ثقافتی تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔پاکستانی فنکاروں کی عالمی موجودگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نوجوان فنکاروں کا ایک گروپ حال ہی میں چین گیا، جہاں اسے زبردست پذیرائی ملی جبکہ ایک اور وفد جلد ازبکستان جائے گا ، گزشتہ سال لوک میلہ میں 6 ممالک نے شرکت کی تھی جبکہ اس سال تقریباً 12 ممالک کے شریک ہونے کی توقع ہے جو اپنے پویلین قائم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مذہبی اور ورثہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس حوالے سے ایک قومی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے، جس میں ثقافت اور سیاحت کے نمائندے شریک تھے۔اس منصوبے کے تحت پاکستان میں پہلا بدھسٹ کلچرل اور انفارمیشن سینٹر لوک ورثہ اسلام آباد میں قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ شاہ اللہ دتہ کے غاروں جیسے اہم بدھ مت کے مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا یہ اقدامات پاکستان کو بدھ مت ورثے میں دلچسپی رکھنے والے زائرین، محققین اور سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد زیادہ تر آثار قدیمہ کے مقامات اب صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں لیکن وفاقی وزارت نے تمام صوبوں کو ان مقامات کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے مراسلے ارسال کیے ہیں کیونکہ ان مقامات پر بین الاقوامی سیاح آتے ہیں،ہمیں صوبوں سے مثبت ردعمل موصول ہوا ہے اور بہتر انفراسٹرکچر یقینی بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 1998 کے بعد سے کوئی نیا پاکستانی مقام عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل نہیں ہوا، اب ہم نے چار نئی نامزدگیاں جمع کرا دی ہیں اور یونیسکو کے ملکی سربراہ کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت قومی کتب خانہ، پاکستان اکادمی ادبیات اور قومی زبان کی ترقی کے محکمے جیسے اہم ثقافتی اداروں کو بھی ڈیجیٹلائز کر رہی ہے تاکہ ادبی اور ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کے مقامات کی ڈیجیٹل میپنگ بھی جاری ہے تاکہ عالمی سطح پر ان تک رسائی اور آگاہی میں اضافہ کیا جا سکے، پاکستان کے ثقافتی مقامات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اور اقدام کے طور پر آثار قدیمہ کے عجائبات پر مشتمل ایک ڈاکومنٹری سیریز تیار کی جا رہی ہے، جسے سفارت خانوں اور سفارتی ذرائع کے ذریعے دنیا بھر میں نشر کیا جائے گا۔
ادارہ جاتی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے اورنگزیب کھچی نے کہا کہ ملک کے بہت سے ثقافتی ادارے 50 سے 60 سال پہلے قائم کیے گئے تھے اور اب وہ فرسودہ ہو چکے ہیں،سینیٹر عرفان صدیقی کی سربراہی میں ایک کمیٹی ان اداروں کے دائرہ کار اور کام کی نوعیت پر نظر ثانی کر رہی ہے تاکہ انہیں موجودہ ثقافتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ثقافتی شعبے کے لیے حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب کچھ محکموں کو بند کرنے کی تجاویز سامنے آئیں تو وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ قومیں اپنی شناخت کو ختم نہیں کرتیں، وہ اسے محفوظ اور فروغ دیتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ڈگری دینے والا پاکستان کا پہلا ادارہ برائے فنون رواں سال کے آخر تک قائم کیا جائے گا،اس وقت ہمارے پاس فنون میں تسلیم شدہ ڈگری نہیں ہے۔ یہ ادارہ طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور بیرونِ ملک تعلیم کے دروازے کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوک ورثہ میں تمام عمر کے افراد کے لیے آرٹ کلاسز کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تخلیقی شعبوں میں دلچسپی اور قدر کو فروغ دیا جا سکے، نئے فنکاروں کی معاونت کے لیے ہم پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں مفت یا کم قیمت پر نمائشی جگہ فراہم کر رہے ہیں تاکہ نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کیا جا سکے۔وفاقی وزیر محمد اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ قومی کلچر پالیسی کے ذریعے پاکستان تاریخ، تخلیق، خوبصورتی اور لازوال تہذیب کی امن اور انسانی اظہار سے جڑی اصل کہانی پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔








