لاہور۔9مارچ (اے پی پی):وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ یوم شہادت حضرت علی کے موقع پر پنجاب بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور 30ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی پر تعینات ہیں تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فتنہ الخوارج کے خلاف موثر ردعمل دے رہا ہے …
یوم شہادت حضرت علی پر پنجاب بھر میں سخت سکیورٹی کے انتظامات ہیں اور 30ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں،عظمی بخاری

مزید خبریں
لاہور۔9مارچ (اے پی پی):وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ یوم شہادت حضرت علی کے موقع پر پنجاب بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور 30ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار عزاداری جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی پر تعینات ہیں تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فتنہ الخوارج کے خلاف موثر ردعمل دے رہا ہے اور سیکیورٹی فورسز دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ عظمی بخاری نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی مریم نواز کے ماڈل پر عوام کی خدمت کریں تو اس سے بڑی خوشی مریم نواز کیلئے کوئی نہیں ہو سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب سلمی بٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید بھی موجود تھیں۔ عظمی بخاری نے مزید کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے لوگ پنجاب میں قائم سہولت بازاروں سے خریداری کر رہے ہیں اور انہیں ریلیف مل رہا ہے۔ عظمی بخاری نے مزید کہا کہ کے پی کی حکومت رمضان پیکج دینے کا دعوی کر رہی ہے مگر عوام کو اس کا عملی نمونہ کہیں نظر نہیں آ رہا جبکہ پنجاب حکومت کے فلاحی اقدامات اور رمضان ریلیف پروگرام عوام تک واضح طور پر پہنچ رہے ہیں۔عظمی بخاری نے کہا کہ میٹنگز یا فوٹو سیشنز کے بجائے اقدامات حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کے لیے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رمضان پیکج اور دیگر فلاحی سرگرمیاں عوام تک پہنچ رہی ہیں اور ان کے اثرات عام آدمی کو واضح طور پر نظر آتے ہیں مگر کے پی میں رمضان پیکج کا کسی کو پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی وہ ریلیف، تعلیم، صحت اور سستی اشیا حاصل ہونی چاہئیں جو ہر شہری کا حق ہیں۔ عظمی بخاری نے عالمی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک میں حالات کو قابو میں رکھنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ آج ایک دن کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریبا 23فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی کشیدگی اور اقتصادی چیلنجز کے اثرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات کے ذریعے ملک میں امن قائم رکھنے اور عوام پر اثرات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فتنہ الخوارج کے خلاف بھی موثر ردعمل دے رہا ہے اور سکیورٹی فورسز دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوم شہادت حضرت علی پر صوبہ بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت اور موثر ہوگی تاکہ عزاداری جلوسوں اور مجالس میں امن و امان قائم رہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں 30,000سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات ہوں گے، جبکہ لاہور میں 8,000سے زائد اہلکار خصوصی فرائض انجام دیں گے۔
217جلوسوں کی نگرانی کیلئے 20,000اور 994مجالس پر 10,000سے زائد افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے۔ عزاداری جلوسوں اور مجالس کے شرکا کی چیکنگ کے لیے 2,029میٹل ڈٹیکٹرز اور 297واک تھرو گیٹس استعمال ہوں گے۔ خواتین عزاداروں کی سکیورٹی کیلئے لیڈی پولیس اہلکار تعینات ہوں گے اور سادہ لباس میں کمانڈوز اور چھتوں پر سنائپرز بھی موجود ہوں گے۔








