یوکرین مذاکرات کی بحالی سے فوجی کارروائیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی، روس

روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازعے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کا مطلب فوجی کارروائیوں پر کسی قسم کی پابندی عائد ہونا نہیں ہے۔شنہوا کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس سمیت فوجی اور متعلقہ اہداف پر مسلسل بڑے پیمانے …

ماسکو۔27اکتوبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازعے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کا مطلب فوجی کارروائیوں پر کسی قسم کی پابندی عائد ہونا نہیں ہے۔شنہوا کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس سمیت فوجی اور متعلقہ اہداف پر مسلسل بڑے پیمانے پر حملے کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنازعے کے پُرامن حل کے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات کو عوامی سطح پر زیرِ بحث لانے سے امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔دیمتری پیسکوف کے مطابق یوکرین کے علاقے اولیشکی میں جنگ بندی کا طریقہ کار تنازعے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا انتظام ممکن ہے۔