لاہور۔27اگست (اے پی پی):پاکستان ریلوے نے37 ریلوے اسٹیشنز کی سولرائزیشن مکمل کر لی ہے،جس سے ریلوے کا روایتی بجلی پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کے اخراجات میں163.52 ملین روپے کی بچت ہوگی۔’’ویلتھ پاکستان ‘‘کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سولر توانائی پر منتقل ہونے والے37 ریلوے اسٹیشنز میں سے9 خیبر پختونخوا (کے پی) اور 28 پنجاب میں سولرائز کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں سولرائز کئے گئے اسٹیشنز میں حسن ابدال، نور، ٹیکسلا، چکلالہ، ڈومیلی، بسرالہ، رائیونڈ، لاہور کینٹ، والٹن، کالا شاہ کاکو، کوٹ رادھا کشن، اوکاڑہ سٹی، اوکاڑہ کینٹ، چھانگا مانگا، چک جھمرہ، سانگلہ ہل، درال احسان، کوٹ لکھپت، گوجرانوالہ، گجرات، رکار پور، جھامان،شورکوٹ، راجپوت نگر، شیر شاہ، گلیوالہ اور جان محمد والا شامل ہیں۔خیبر پختونخوا میں سولرائز کئے گئے ریلوے اسٹیشنز میں کنڈیاں، پشاور سٹی،نوشہرہ،اٹک سٹی، جنڈ، بسال، پبی، داد خیل اور جہانگیر روڈ شامل ہیں۔
حکومت نے ملک بھر میں155 ریلوے اسٹیشنز کی سولرائزیشن کا منصوبہ شروع کیا تھا تاکہ بجلی کے اخراجات پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کی بچت کی جا سکے۔پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں ہدف کے طور پر مقرر 155 ریلوے اسٹیشنز کی سولرائزیشن کیلئے450 ملین روپے لاگت کا تخمینہ لگایا تھا۔دستاویزات کے مطابق مزید42 اسٹیشنز کی سولرائزیشن رواں سال دسمبر تک مکمل ہو جائے گی۔پنجاب میں ملتان ریجن کے23 اور راولپنڈی کے9 اسٹیشنز کی سولرائزیشن جاری ہے،جن پر بالترتیب43.83 ملین روپے اور26.809 ملین روپے لاگت آئے گی۔ان دونوں ریجنز میں اسٹیشنز کی سولرائزیشن سے پاکستان ریلوے کو40.4 ملین روپے کی بچت ہوگی۔
اسی طرح بلوچستان میں10 ریلوے سٹیشنز کی سولرائزیشن پر13.396 ملین روپے لاگت آئے گی اور بجلی کے اخراجات کی مد میں سالانہ9.18 ملین روپے کی بچت ہوگی۔61 اسٹیشنز سندھ اور 15 بلوچستان کے76 ریلوے اسٹیشنز کی سولرائزیشن کیلئے بولیوں کا مالیاتی جائزہ جاری ہے۔ان اسٹیشنز کی سولرائزیشن پر بالترتیب 183.23 ملین روپے اور15 ملین روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
حکومت کو بجلی کے بلوں میں سالانہ113.86 ملین روپے کی بچت ہوگی۔پاکستان ریلوے کے ایک سینیئر اہلکار نے ’’ویلتھ پاکستان ‘‘کو بتایا کہ حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں بالخصوص انفراسٹرکچر اور دیگر متعلقہ ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی ہے،جو ریلوے کے محکمے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اخراجات کم کرنے کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کی اس معاملے میں سنجیدگی کی ایک مثال یہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے حال ہی میں کراچی سے روہڑی تک500 کلومیٹر ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈنگ پر اتفاق کیا ہے۔اہلکار نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں ریلوے ٹریکس کی اپ گریڈیشن اور ڈوئلائزیشن کی رضامندی بھی ایک مثبت قدم ہے،جو ریلوے کے محکمے کو مزید مستحکم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مین لائن-1 (ایم ایل-1) منصوبہ بھی حکومت کی ایک بڑی ترجیح ہے،یہ ٹریک جو کراچی سے پشاور تک بنیادی ریلوے کوریڈور ہے ٹرانسپورٹ کی استعداد کار بڑھائے گا،سفر کے دورانیے کو کم کرے گا اور خاص طور پر وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر مال برداری اور مسافروں کی آمد و رفت کو آسان بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے راولپنڈی۔لاہور فاسٹ ٹرین منصوبے کیلئے فنڈز کی منطقی تقسیم بھی ریلوے کے محکمے کی ترقی کیلئے اس کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔یہ منصوبہ دونوں شہروں کے درمیان سفر کے دورانیے کو کم کرے گا۔