24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںنوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ...

نوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی بات کی،پی ٹی آئی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے،سینیٹر عرفان صدیقی

- Advertisement -

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، محمد نوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی بات کی، معاشی استحکام کیلئے خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرینگے، آئین میں ججز کی تعداد بڑھانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے اور ملک کو مشکلات کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے تمام جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی بات کی ہے، انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت یا مذاکرات کی کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی تجویز کا سیاسی مذاکرات کی جانب کوئی اشارہ نہیں تھا، معاشی استحکام کیلئے خیبرپختونخوا حکومت سے بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کٹی پتنگ کی طرح گھوم رہی ہے، مذاکرات کیلئے جو فضا اور ماحول چاہیے وہ ابھی نہیں ہے، پی ٹی آئی مذاکرات نہیں صرف رعایتیں چاہتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت جو فیصلے کرے گی خیبرپختونخوا کی حکومت اس کا حصہ ہو گی، انہیں آنا چاہئے اور اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہئے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف 9 مئی واقعات کی لٹکتی ہوئی تلوار کو دیکھ کر کبھی ادھر مذاکرات کی بات کرتی ہے اور کبھی ادھر مذاکرات کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022ء میں جب الیکشن طے کر لئے تھے تو ان کی ٹیم نے بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکشن طے کئے لیکن بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد پر حملہ کرینگے، ان کی ٹیم نے کہا کہ ہم الیکشن کی بات کر کے آئے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی کوئی بھی ضمانت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کی طرف سے جو فضا، ماحول اور اعتماد چاہئے وہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ صدق دل سے مذاکرات کے خواہش مند ہیں، یہ لوگ صرف رعایتیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ججز کی تعداد بڑھانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے، آئین کے اندر ججوں کی تعداد متعین نہیں ہے، آئین سازوں کی دانش کا ایک نتیجہ ہے کہ انہوں نے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 53 ہزار کیسز سپریم کورٹ کے اندر پڑے ہوئے ہیں، ججز کی تعداد بڑھانے سے کیسز جلد ہونگے۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں