لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی اپیل منظور کر لی، شناختی کارڈ بحالی کے ماتحت عدالتی فیصلے کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

لاہور۔24جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے خلاف دائر اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ پاکستانی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویدار پر عائد ہوتی ہے اور شہریت کے دعووں میں والد اور دادا کی شہریت کے شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔ فیصلے کے مطابق 1979 سے قبل کا سرکاری ریکارڈ شہریت کے تعین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جبکہ پیدائش سرٹیفکیٹ، پرانا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل، تعلیمی اسناد اور دیگر سرکاری دستاویزات بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا پاکستانی شہریت کا ناقابل تردید ثبوت نہیں اور نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی کی رپورٹس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ شہریت کے معاملات پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ اور نادرا قوانین کے تحت طے ہوں گے، ایسے معاملات میں براہ راست سول دعوی قابل سماعت نہیں اور متبادل قانونی فورمز موجود ہونے کی صورت میں سول عدالت یا رٹ پٹیشن سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق متاثرہ افراد پہلے نادرا ویری فکیشن بورڈ اور متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کرنے کے پابند ہیں۔ عدالت نے خالد خان اور عطا اللہ کو ہدایت کی کہ وہ 30 روز کے اندر نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کریں جبکہ بورڈ 60 روز میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔نادرا کے مطابق دونوں افراد اور ان کے خاندان کو مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی نے غیر ملکی کیٹیگری میں رکھا تھا جبکہ مختلف انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات میں ان کی پاکستانی شہریت ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

مزید خبریں