اسلام آباد ۔17مئی (اے پی پی) قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے آئندہ مالی سال 2018-19ءکے لئے 43کھرب 71 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 151 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یکے بعد دیگرے وزارت انسانی حقوق ‘ وزارت صنعت و پیداوار‘ وزارت اطلاعات و نشریات‘ پاکستان کوسٹ گارڈ‘ پاکستان ریلوے‘ قومی تاریخ و ادبی …
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 23 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جو منظور کر لئے گئے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔17مئی (اے پی پی) قومی اسمبلی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے آئندہ مالی سال 2018-19ءکے لئے 43کھرب 71 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کے مجموعی طور پر 151 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یکے بعد دیگرے وزارت انسانی حقوق ‘ وزارت صنعت و پیداوار‘ وزارت اطلاعات و نشریات‘ پاکستان کوسٹ گارڈ‘ پاکستان ریلوے‘ قومی تاریخ و ادبی ورثہ اور وزارت داخلہ سمیت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے 23 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جن میں سے بعض پر ایم کیو ایم کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئیں تاہم بعد ازاں ایم کیو ایم کے رکن شیخ صلاح الدین نے کٹوتی کی تحاریک واپس لینے کا اعلان کردیا۔ قومی اسمبلی نے ان مطالبات زر کی منظوری دے دی۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں منگل کو کابینہ ڈویژن سمیت بعض وزارتوں پر ایم کیو ایم کی طرف سے شیخ صلاح الدین نے کٹوتی کی تحاریک پیش کیں جن کی حکومت کی طرف سے متعلقہ وزراءنے مخالفت کی اور یہ کٹوتی کی تحاریک قومی اسمبلی نے مسترد کردیں تاہم شیخ صلاح الدین نے اپنی کٹوتی کی تحاریک کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام سے بجلی کی مد میں 60 ارب سے زائد کے الیکٹرک نے اضافی وصول کئے جن کا آج تک ازالہ نہیں کیا جاسکا۔








