اسلام آباد ۔ 9 جون (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی تشکیل نو پر بحث سنجیدہ معاملہ ہے،اور یہ معاملہ صرف اتفاق رائے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی غرض سے مزید منتخب غیر مستقل ارکان کے اضافے پر مکمل اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔گزشتہ روز سلامتی کونسل اصلاحا ت سے متعلق بین الحکومتی …
سلامتی کونسل کی تشکیل نو پر بحث سنجیدہ معاملہ ہے،اور یہ معاملہ صرف اتفاق رائے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے،ملیحہ لودھی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 جون (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی تشکیل نو پر بحث سنجیدہ معاملہ ہے،اور یہ معاملہ صرف اتفاق رائے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی غرض سے مزید منتخب غیر مستقل ارکان کے اضافے پر مکمل اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔گزشتہ روز سلامتی کونسل اصلاحا ت سے متعلق بین الحکومتی مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات بنیادی طور پر اقوام متحدہ میں دیگر اصلاحاتی عمل سے مختلف ہے،ان سے رکن ممالک کے سٹریٹجک مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔اصلاحاتی عمل اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام رکن ممالک کے خیالات اور مفادات کو مدنظر رکھا اور اس کا احترام کیا جائے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ ممبر شپ کی کٹیگریز اور ویٹو کے سوال پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔سلامتی کونسل کی تشکیل نو کے حوالے سے بحث کا آغاز فروری 2009میں جنرل اسمبلی میں ہوا۔








