نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی ذمہ داریوں و کارکردگی کے بارے میں بریفنگ اجلاس

نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی ذمہ داریوں و کارکردگی کے بارے میں بریفنگ اجلاس قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی کارکردگی کی تعریف ، ملک کے ثقافتی ورثہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور ،غیر ممالک کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون …

نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کی زیر صدارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی ذمہ داریوں و کارکردگی کے بارے میں بریفنگ اجلاس
قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی کارکردگی کی تعریف ، ملک کے ثقافتی ورثہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور ،غیر ممالک کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے نئے راستے تلاش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ملک کے ثقافتی ورثہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ غیر ممالک کے ساتھ ان شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے نئے راستے تلاش کئے جائیں۔ وہ پیر کو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی ذمہ داریوں و کارکردگی کے بارے میں بریفنگ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر برائے قومی ورثہ و ادبی تاریخ سید علی ظفر، وزیراعظم کے سیکرٹری سہیل عامر، سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ انجینئر عامر حسن، ڈائریکٹر جنرل نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ افتخار حسین عارف، منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاﺅنڈیشن ڈاکٹر انعام الحق اور دیگر سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ انجینئر عامر حسن نے وزیراعظم کو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے مینڈیٹ اور کامیابیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوںنے جنوری 2016ءمیں علیحدہ ڈویژن کے قیام کے بعد سے اس کی مختلف کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا جن میں ویساکھ فیسٹیول 2016ءو 2017ئ، دیگر ممالک کے ساتھ ثقافتی تعاون و ثقافتی ورثہ کا تبادلہ، قومی و بین الاقوامی خطاطی نمائشوں و مقابلوں کا انعقاد، انسٹی ٹیوٹ آف کیلیگرافی کا قیام، نوروز اور فالکنری ایونٹس کا اہتمام اور قومی اہمیت کے ادبی مواد کی اشاعت و ڈیجیٹائزیشن شامل ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم کو ڈویژن کے ذیلی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں بھی بریفنگ دی اور مختلف تاریخی ورثہ کے حامل مقامات کو محفوظ کرنے اور اردو ڈکشنری کے علاوہ کلیات اقبال پر مشتمل اینڈرائڈ اپیلیکیشن کی تیاری و اجراءکے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کی جانب سے قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے تحفظ اور فروغ کے حوالہ سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے مضبوط ثقافتی ورثہ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور غیر ملکی سیاحوں کو سہولت دینے کے سلسلہ میں وفاقی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے مابین وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے دیگر ممالک کے ساتھ ثقافت اور ورثہ کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کیلئے نئے راستے تلاش کرنے کی ہدایت کی۔