حکومت کا ملکی معیشت کی بحالی کے پروگرام کے سلسلہ میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ملک کی خراب معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں تمام آپشنز کا جائزہ لینے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو وزارت خزانہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو 6.6 فیصد کا مالیاتی خسارہ، توانائی کے شعبہ میں 10 کھرب روپے …

اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر (اے پی پی) موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ملک کی خراب معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں تمام آپشنز کا جائزہ لینے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو وزارت خزانہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو 6.6 فیصد کا مالیاتی خسارہ، توانائی کے شعبہ میں 10 کھرب روپے سے زائد خسارہ اور ماہانہ 2 ارب ڈالر کا جاری اکاﺅنٹ خسارہ ورثہ میں ملے ہیں۔ جاری عدم توازن کو دور کرنے کیلئے فسکل اور مانیٹری شعبہ میں بلاتاخیر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے فنانس سپلیمنٹری (ترمیمی) ایکٹ 2018ءاور سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں غیر ضروری اشیاءکی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کو بھی نافذ کرنا پڑا تاکہ درآمدات میں غیر ضروری اضافہ کو روکا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے موجودہ صورتحال اور معروف معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی معیشت کی بحالی کے پروگرام کے سلسلہ میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔