اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت وکلاءبرادری بالخصوص بلوچستان کے وکلاءکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے پرعزم ہے، وکلاءبرادری کے تعاون اور مشاورت سے وزارت قانون و انصاف میں بھرتیوں میں میرٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان …
وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اﷲ کنرانی کی قیادت میں وکلاءکے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ حکومت وکلاءبرادری بالخصوص بلوچستان کے وکلاءکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے پرعزم ہے، وکلاءبرادری کے تعاون اور مشاورت سے وزارت قانون و انصاف میں بھرتیوں میں میرٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اﷲ کنرانی کی قیادت میں وکلاءکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءبرادری کو درپیش مسائل مشاورت سے حل کئے جائیں گے، وسائل کی مساوی تقسیم سے کسی صوبہ میں احساس محرومی پیدا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت اور میرٹ پر لاءافسران تعینات کئے جائیں گے، وکلاءکو کسی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ اس سے پہلے وکلاءکے وفد نے وزیراعظم کے سو روزہ اہداف کے تحت قانون سازی سے متعلق تجاویز تیار کرنے پر ان کی کارکردگی کو سراہا۔ وکلاءوفد نے وفاقی وزیر قانون کو وکلاءبرادری بالخصوص بلوچستان کے وکلاءکے مسائل سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم نے وکلاءبرادری کے مسائل کے حل کیلئے انہیں ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اﷲ کنرانی نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کونسل کے بعض ممبران کی جانب سے وزیر قانون و انصاف کے استعفیٰ کا مطالبہ غیر قانونی ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی وکلاءاہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور پاکستان بار کونسل کے بھی رکن رہے ہیں، سیاسی بنیادوں پر اس طرح کے مطالبات پاکستان بار کونسل کیلئے نقصان دہ ہے۔ وفد میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اﷲ کنرانی کے علاوہ منیر احمد خان کاکڑ، احسان حمید اللہ، شعیب شاہین ایڈووکیٹ اور دیگر شامل تھے۔








