وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا معاشی سفارتکاری پر سفیروں کی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کیلئے نیا انداز فکر اور نئی سوچ اپنانی ہوگی،نجی شعبے کے بغیر معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، 16 بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں' سترھویں بار دینے والے ہیں' داخلی صورتحال کو مدنظر رکھے بغیر موثر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی،21ویں صدی …

اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کیلئے نیا انداز فکر اور نئی سوچ اپنانی ہوگی،نجی شعبے کے بغیر معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، 16 بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں’ سترھویں بار دینے والے ہیں’ داخلی صورتحال کو مدنظر رکھے بغیر موثر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی،21ویں صدی ایشیا کی صدی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں معاشی سفارتکاری پر سفیروں کی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر نئے پاکستان نے جنم لینا ہے تو اس کیلئے نیا انداز فکر اور نئی سوچ اپنانی ہوگی’ غیر مستحکم داخلی صورتحال عالمی سطح پر منفی تشخص کا موجب بنتی ہے۔ داخلی صورتحال کو مدنظر رکھے بغیر موثر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ ریکارڈ تجارتی خسارہ ورثے میں ملا’ قرض اتارنے کے لیے بھی مزید قرض درکار ہے’ 16 بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں’سترھویں بار دینے والے ہیں۔