استنبول ۔ 21 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سے لوگ ترک وطن کر کے دوسرے ممالک کو جاتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک سے بھی لوگ نقل مکانی کرکے پاکستان آتے ہیں، مہاجرت سے متعلقہ معاملات پر بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ استنبول میں مہاجرت سے متعلقہ معاملات پر بداپسٹ عمل کے …
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا استنبول میں مہاجرت سے متعلق چھٹی وزارتی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
استنبول ۔ 21 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سے لوگ ترک وطن کر کے دوسرے ممالک کو جاتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک سے بھی لوگ نقل مکانی کرکے پاکستان آتے ہیں، مہاجرت سے متعلقہ معاملات پر بات چیت اور تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ استنبول میں مہاجرت سے متعلقہ معاملات پر بداپسٹ عمل کے سلسلے میں منعقدہ چھٹی وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایسے ممالک جہاں سے لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، نقل مکانی کے لئے راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور نقل مکانی کرکے آباد ہوتے ہیں، کے مابین بات چیت اور رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ نقل مکانی کے مسئلہ سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے قانون پر عمل درآمد کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی مہاجرت کے محرکات کو ختم کرنے اور قانونی مہاجرت کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے محدود ویزوں کے نظام کے اثرات کا جائزہ لینے اور غیر قانونی مہاجرت روکنے کے لئے سخت سرحدی کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام، رنگ و نسل اور نقل مکانی کر کے آنے والوں سے خوفزدہ ہونے کے رجحانات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محدود سیاسی مقاصد کے لئے نقل مکانی کرنے والوں کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہئے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں سے لوگ ہجرت کرتے بھی ہیں اور دوسرے ممالک سے بھی لوگ ہجرت کر کے یہاں آتے ہیں۔ پاکستان گزشتہ چار عشروں سے ہمسایہ و خطے کے دیگر ممالک سے آنے والے 10 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرکے پاکستان آنے والوں کو سماجی نقل و حرکت، ملازمت کے مواقع اور صحت و تعلیم تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہاجرت کے حوالے سے موثر پالیسیاں موجود ہیں جنہیں قانونی و انتظامی طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے ترکی، یونان، کروشیا کے وزرائے داخلہ کے علاوہ افغانستان کے پناہ گزینوں کے وزیر سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان سے مہاجرت سے متعلقہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔







