اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) پاکستان اور امریکا نے پاکستان کو انسانی حقوق سے متعلق مخصوص ممالک کی فہرست سے نکالنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلہ میںسٹریٹجی پر عملدرآمد کیلئے پاکستان امریکا سے رابطوں کیلئے فوکل پرسن مقرر کرے گا۔ یہ اتفاق رائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بین الاقوامی مذہبی آزادی کےلئے امریکی سفیر سموئیل ڈی براﺅن بیک کے مابین …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بین الاقوامی مذہبی آزادی کیلئے امریکی سفیر سموئیل ڈی برائون بیک کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) پاکستان اور امریکا نے پاکستان کو انسانی حقوق سے متعلق مخصوص ممالک کی فہرست سے نکالنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلہ میںسٹریٹجی پر عملدرآمد کیلئے پاکستان امریکا سے رابطوں کیلئے فوکل پرسن مقرر کرے گا۔ یہ اتفاق رائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بین الاقوامی مذہبی آزادی کےلئے امریکی سفیر سموئیل ڈی براﺅن بیک کے مابین بات چیت کے دوران پایا گیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنے پر سفیر براﺅن بیک کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور باہمی مفاد کے متعدد معاملات خصوصاً مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن عامہ کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام محبت، امن اور مذہبی رواداری کا درس دیتا ہے، بین المذاہب رواداری کا فروغ ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہبی آزادی سے متعلق ہمیشہ بین الاقوامی تعاون کا پارٹنر رہا ہے۔ آئین پاکستان ملک میں تمام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے 9 میں سے 7 معاہدوں کا حصہ ہونے کے ناطے پاکستان اقلیتوں کو تحفظ اور عزت و احترام دینے کے عزم سے بخوبی آگاہ ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الامذاہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مذہبی عدم برداشت کی روک تھام کیلئے پاکستانی اقدامات کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ہیومن رائٹس کونسل نے بھی توثیق کی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو مخصوص خدشات کا ملک قرار دینے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی خدشات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں، پاکستان کثیرالجہتی مذہبی اور تکثیری سوسائٹی ہے جہاں مختلف عقائد کے ماننے والے اکٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ذات، نسل اور مذہب کے بغیر اپنے تمام شہریوں کی آئینی و قانونی تحفظ اور آذادی کو یقینی بنایا ہے۔فریقین نے پاکستان کو انسانی حقوق سے متعلق مخصوص ممالک کی فہرست سے نکالنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے پر اتفاق کیا۔اس سلسلے میںسٹریٹجی پر عملدرآمد کیلئے پاکستان امریکا سے رابطوں کیلئے فوکل پرسن مقرر کرے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک کی اعلی عدلیہ نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور جائیداد کے تحفظ کیلئے تاریخی فیصلے کئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے سفیر براﺅن بیک کی توجہ ممبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری عوام کی مذہبی آزادیوں سیمت ان پر مظالم اور بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی طرف بھی مبذول کرائی۔ وزیر خارجہ نے سفیر براون بیک پر زور دیا کہ وہ بھارت میں اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔سفیر براون بیک نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے بھی ملاقات کی۔. وزیر خارجہ نے قوموں اور ان کے عوام کے درمیان بقائے باہمی، رواداری اور امن کے فروغ میں تنظیموں اور اداروں کے درمیان بین الاقوامی کوششوں اور تعاون کو فعال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ امریکی سفیر براو¿ن بیک نے بقائے باہمی، لچک اور ہم آہنگی پر مبنی پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی۔







