وزیر اعظم عمران خان کا بی بی سی کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ امن خطے کے لیے بے حد خوش آئند اور زبردست فوائد کا حامل ہو گا، مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اس مسئلہ کوسلگتا ہوا نہیں چھوڑا جا سکتا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے۔ انہوں نے ان خیالات …

اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ امن خطے کے لیے بے حد خوش آئند اور زبردست فوائد کا حامل ہو گا، مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اس مسئلہ کوسلگتا ہوا نہیں چھوڑا جا سکتا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میںکیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے عمران خان سے سوال کیا کہ وہ اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا اوراس مسئلہ کو سلگتا ہوا نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے ساتھ متنازع علاقہ کشمیر میں امن خطے کے لیے بہت زبردست ہو گا۔ جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہم غربت کو کم کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔غربت کو کم کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک اختلاف ہے جو کہ کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے کیونکہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاں کے لوگوں کا ردِ عمل ہے، اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جائے گا اور ہم ان پر الزام عائد کریں گے تو کشیدگی بڑھے گی جس طرح ماضی میں بڑھتی تھی لہٰذا اگر ہم کشمیر کو حل کر سکتے ہیں تو برصغیر میں امن کے زبردست فوائد ہیں۔ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کے خطرات کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ جواب دیتے ہیں تو کوئی بھی اس بات کی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ وہ کہاں تک جائے گا۔ اگر بھارت پاکستان پر دوبارہ حملہ کرتا تو پاکستان کے پاس اس کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی شدت پسند تنظیموں کو غیر مسلح کر رہے ہیں۔ یہ جنگجو گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے بیرونی دباو¿ نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ یہاں کوئی بھی عسکریت پسند گروہ نہ ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے آسیہ بی بی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں بری کی جانے والی آسیہ بی بی بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔

مزید خبریں

Leave a Reply