اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون بالا تر ہے، این جی اوز کو قانون کے دائرے میں سرگرمیوں کی اجازت ہے، کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے، عورت کی عزت اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے، اسلام نے عورتوں کو جو احترام …
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں صنفی مساوات اور خواتین پر گھریلو تشدد کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون بالا تر ہے، این جی اوز کو قانون کے دائرے میں سرگرمیوں کی اجازت ہے، کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے، عورت کی عزت اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے، اسلام نے عورتوں کو جو احترام دیا وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا، وزیراعظم نے انسانیت کے احترام پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ بدھ کو پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں صنفی مساوات اور خواتین پر گھریلو تشدد کے موضوع پر سیمینارمنعقد ہوا جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ شہر یار آفریدی نے کہا کہ عورت کی عزت اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے، ہم نے دین کی تعلیمات کو فراموش کیا جو خواتین کے عدم احترام کی بنیادی وجہ ہے، آج خواتین کے احترام کے حوالے سے یورپ ہمیں جو سبق سکھا رہا ہے وہ ہماری بنیاد ہے، اسلام نے عورتوں کو جو احترام دیا وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا، وزیراعظم نے انسانیت کے احترام پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں چائلڈ لیبر ہمارے ہاں جرم تصور ہی نہیں ہوتا، گھریلو تشدد اور صنفی عدم مساوات کے حوالے سے قانون سازی کے لیے عوامی نمائندوں کا باشعور ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانون بالا تر ہے، این جی اوز کو قانون کے دائرے میں سرگرمیوں کی اجازت ہے، این جی اوز کا احترام کرتے ہیں، این جی اوز کو تین سال دیئے ہیں کہ وہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچہ کو مدنظر رکھ کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی این جی او کو ملک کی سلامتی اور وقار کے منافی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کر دیا گیا ہے، قانون بننے کے بعد تیسری جنس پر تشدد کے خاتمے میں واضح کمی ہوئی، ہمیں خواتین پر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن میڈیا خواتین اور تیسری جنس پر تشدد کا منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، خواتین کو پولیس فورس میں آنے کے لیے ترغیب دینے کی ضرورت ہے، اس وقت خواتین کے لیے اسلام آباد میں صرف ایک کرائسز سنٹر قائم ہے، مزید سنٹرز قائم کرنے کے لیے فنڈز کا ایشو ہے، یو این سے معاونت کی توقع ہے، قانون موجود ہے مگر عملدرآمد اور آگاہی کا فقدان ہے۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار خان نے کہا کہ خواتین پر گھریلو تشددکے خاتمے کیلئے ہم یہ دوسرا سیمینار کر رہے ہیں، اسلام نے جو عورت کو مقام دیا وہ کسی مذہب نہیں دیا، برادری اور قبیلہ میں شادی کی روایت نے ہماری خواتین کیلئے بہت سے مسائل بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر تھانے میں دس خواتین کو تھانے میں رکھنا چاہتاہوں لیکن نفری کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں 331 شکایات ہوئیں لیکن ہم صرف ان کو یہی کہتے رہے کہ صلح ہوجائے، قانون پر عمل کے لیے ہمیں شیلٹر ہومز میں اضافہ اور ویمن پولیس کے کردار کو فروغ دینا ہو گا۔ ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وومن پولیس سٹیشن میں بچوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے، 8090 تشدد کی شکار خواتین کی مدد کیلئے نمبر مختص کر دیا گیا ہے، 7 پولیس سٹیشنز میں جینڈر ڈیسک قائم کردیا گیا ہے۔ 14 تھانوں میں خواتین سٹاف کو تعینات کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں 300 خواتین افسران ہیں، تین اے ایس پیز بھی ان میں شامل ہیں، ان خواتین پولیس کے مسائل کیلئے خصو صی ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا۔








