وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری کا سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے سمیت صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے معاشرے کی سوچ کو بدلنا ہو گا، معاشرے کی سطح پر خواتین کو صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے جسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا اور گھر گھر اس …

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانے سمیت صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے معاشرے کی سوچ کو بدلنا ہو گا، معاشرے کی سطح پر خواتین کو صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے جسے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا اور گھر گھر اس حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو گا‘ قوانین پر عملدرآمد سمیت معاشرے کی سوچ میں تبدیلی ہی تشدد کاخاتمہ کرے گی‘ اسلام آباد پولیس کی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہاکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار لوگوں کو تحفظ دینے کیلئے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور عوام کو بھی پولیس کے محکمے کی عزت کرناہوگی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں صنفی مساوات اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اورحقوق کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس اور روزن کے تعاون سے منعقدہ ایک سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی بھی موجود تھے۔ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہاکہ موجودہ حکومت بلاامتیاز حقوق کے تحفظ اورفروغ کیلئے پرعزم ہے اور اس ضمن میں جامع پالیسی کے تحت ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کئی ممالک سے بہترہے، ملک میں بلاامتیازانسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے موجودہ حکومت پرعزم ہے، پاکستان میں غیرمسلم اقلیتوں کو ان کے اپنے ذاتی قوانین فراہم کئے گئے ہیں اور اس ضمن میں ہندوں برادری کیلئے طلاق اورشادی کاقانون پہلے سے نافذالعمل ہے جبکہ مسیحی برادری کیلئے طلاق کابل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیاجائیگا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اوراس کی عزت کو یقینی بنانے سمیت صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے معاشرے کی سوچ کو بدلناہوگا۔ہماری توجہ موجودہ قوانین پر عملدرآمد سمیت نئی قانون سازی پر مرکوز ہے جبکہ خواتین کے حقوق اوربچوں پرتشدد کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی مہمیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواجہ سراو¿ں کی فلاح وبہبود کیلئے پمز ہسپتال اسلام آباد میں خواجہ سراوں کیلئے علیحدہ وارڈ بھی قائم کیاگیاہے اوران کومفت طبی امداد بھی فراہم کی جارہی ہے اور جلد ہی انہیں ہیلتھ کارڈز بھی جاری کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین پرگھریلوں تشدداوربچوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی عمل میں لائی جارہی ہے۔ گھریلوں ملازمین بالخصوص خواتین اوربچوں پرتشد دکی روک تھام کا بل کابینہ نے پہلے ہی منظورکرلیاہے اورجلد ہی پارلیمنٹ کے اندرپیش کیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ صنفی بنیادوں پر تشدد کوروکنے کیلئے معاشرے کی سوچ کو بدلناہوگا اوراس کے ساتھ ساتھ پولیس افسران اور لاءانفورسمنٹ اورجوڈیشل افسران کوبھی اس حوالے سے احساس ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ صنفی بنیادوں پر امتیاز اصل مسئلہ ہے جو کہ معاشرے کی سطح پر ہرعورت کو درپیش ہیں اور ہمیں اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہو گا اور گھر گھر اس حوالے سے شعور کو بیدار کرنا ہو گا، قوانین پر عملدرآمد سمیت معاشرے کی سوچ میں تبدیلی ہی تشدد کا خاتمہ کرے گی۔ وفاقی وزیر نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ ہمارے قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکار، لوگوں کو تحفظ دینے کیلئے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور عوام کو چاہئے کہ وہ پولیس کو عزت و احترام دیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply