ڈاکٹر عارف علوی کاانسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس آف پاکستان کے زیر اہتمام یوم خواتین 2019ءکی مناسبت سے تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معیشت میں خواتین پروفیشنلز کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ان کیلئے سازگار پیشہ وارانہ ماحول قائم کرنے کے سلسلہ میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں …

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معیشت میں خواتین پروفیشنلز کے کردار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ان کیلئے سازگار پیشہ وارانہ ماحول قائم کرنے کے سلسلہ میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ وہ جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کی ویمنز کمیٹی کے زیر اہتمام یوم خواتین 2019ءکی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ خاتون اول ثمینہ علوی بھی تقریب میں موجود تھیں۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف اداروں میں خواتین پروفیشنل کی شمولیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے، اس کیلئے مختلف راستے اور طریقے اختیار کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پیشہ وارانہ شعبوں میں خواتین کو ہنرمند بنا کر اقتصادی نمو میں ان کے کردار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ خواتین کی ذمہ داری گھر پر بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے، اس تاثر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، مردوں اور خواتین کے درمیان سماجی ذمہ داریاں مساویانہ بنیادوں پر تقسیم ہونی چاہئیں، خواتین کو خود مختار بنانے سے سماجی و اقتصادی بہتری میں ان کے کردار سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں اکاﺅنٹینسی کے موجودہ نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں جس کے باعث فنانشل انٹریز کی تصدیق سے متعلق ضابطہ کی کارروائی میں تاخیر اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ڈبل اکاﺅنٹینسی میکنزم کے قیام کی تجویز پیش کی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ نظام میں چیک اینڈ بیلنس کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ صدر مملکت نے اکاﺅنٹینسی کے شعبہ میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس حوالہ سے خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک فنانشل مینجمنٹ اور چارٹرڈ اکاﺅنٹینسی کے شعبوں میں خواتین کو مضبوط کردار دینے کے سلسلہ میں کوششوں کی سمت کے ساتھ ساتھ مدت بھی متعین کی جانی چاہئے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خواتین کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تاہم خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کیلئے سازگار پیشہ وارانہ ماحول قائم کرنے کے سلسلہ میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ سے مستقل رابطے رکھیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو تحفظ، وراثت کے حقوق اور معاشرہ میں ان کا جائز مقام دیا ہے۔ اس حوالہ سے اسلامی ضابطہ حیات کی پیروی کرتے ہوئے سماجی بہتری کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے اکاﺅنٹینسی کے شعبہ میں شاندار خدمات سرانجام دینے والے چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس میں اعزازات بھی تقسیم کئے۔ اس موقع پر لائف اچیومنٹ ایوارڈ چیئرپرسن آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی عظمیٰ عادل خان جبکہ چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ویمن آف دی ایئر ایوارڈ عاصمہ جان کو دیا گیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply